اقوام متحد کے کمیشن نے اسرائیل کو فلسطین میں “ نسل کشی” کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے :
تحریر : قاضی اشتیاق احمد
”نسل کشی” کی اصطلاح اور وہ قانونی فریم ورک جو اسے ایک جرم قرار دیتا ہے، نازی جرمنی کے ہاتھوں چھ ملین یہودیوں کے قتل عام کے تناظر میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اب اسی عمل کو اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف بےرحمی سے استعمال کرنا ناقابل یقین ہے۔
اقوام متحدہ کے کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایسے معقول شواہد موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل سے نسل کشی کے پانچ میں سے چار اعمال سرزد ہوئے ہیں۔ مثلاً :
* کسی مخصوص گروہ کے افراد کو قتل کرنا
* جسمانی یا ذہنی اذیت دینا
* ایسی حالات جان بوجھ کر پیدا کرنا جن کا مقصد اس گروہ کی مکمل تباہی ہو
* اس گروہ میں پیدائش کو روکنا
رپورٹ میں اسرائیلی رہنماؤں کے عوامی بیانات اور اسرائیلی افواج کے مسلسل طرزِ عمل کو نسل کشی کے ارادے کے واضح اشارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جیسا کہ متوقع تھا، اسرائیلی حکام نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن اور جھوٹا” قرار دیا ہے۔
یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم 64,964 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آبادی کی اکثریت کو بار بار بے دخل کیا گیا ہے۔ 90 فیصد سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جب کہ علاقے کا صحت، پانی، صفائی اور صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے زیرِ سرپرستی غذائی ماہرین نے غزہ شہر میں قحط کی تصدیق کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کے کمیشن کا یہ دورہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ برطانیہ کے دورے کے ساتھ ہی سامنے آیا ہے۔ جہاں برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر کے سیاسی بیانیے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، وہیں صدر ٹرمپ اب بھی اپنے متنازعہ مؤقف پر قائم ہیں — جو اسرائیل کے غزہ میں کیے گئے مبینہ نسل کشی جیسے اقدامات اور خطے میں اس کی وسیع جارحیت کی حمایت کرتا ہے۔ اس جارحیت کی تازہ مثال قطر پر مبینہ حملہ ہے۔
قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ حملہ اسرائیل کا یکطرفہ اقدام نہیں تھا، بلکہ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ذرائع کے مطابق قطر کو اس حملے کی پیشگی اطلاع تھی — ممکنہ طور پر اس مقصد کے تحت کہ وہ خود کو ایک غیر جانب دار اور خودمختار ثالث کے طور پر پیش کر سکے، بجائے اس کے کہ وہ امریکا یا اسرائیل کے زیرِ اثر ایک ریاست کے طور پر دیکھا جائے۔ اگرچہ یہ نظریہ بظاہر غیر معقول محسوس ہوتا ہے، مگر مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تناظر میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امکان ہے کہ دونوں رہنماؤں (ٹرمپ اور سٹارمر) کے درمیان ملاقات میں یوکرین، فلسطین اور روس جیسے عالمی بحرانوں کے علاوہ دو طرفہ تجارتی امور بھی زیر بحث آئیں گے۔
ٹرمپ کے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مبین طعلقات کے علاوہ ایک بار پھر ان کے سابقہ ذاتی تعلقات پر توجہ بھی مرکوز ہو گی خصوصاً ان کا معروف جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلق — جس کے انکشافات پہلے ہی سابق برطانوی سفیر لارڈ مینڈلسن کی برطرفی کا باعث بن چکے ہیں۔