وزیر اعظم چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس میں عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی، اور کہا کہ مذاکرات کی جگہ کا تعین کمیٹی کرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں
اسلام آباد (نامہ نگار) وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کشادہ دلی کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے تیار ہے۔
مظفرآباد اور راولاکوٹ سمیت جہاں ضرورت ہو حکومت مذاکرات کے لیے حاضر رہے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ واقعات کا تسلسل رکے اور مذاکراتی عمل بحال ہو تاکہ عوام کے مسائل پر امن طریقے سے حل ہوں۔
چوہدری انوار الحق نے بتایا کہ مظفرآباد میں ہونے والے واقعات میں پولیس کے آٹھ اہلکار شدید طور پر زخمی ہوئے جبکہ مجموعی طور پر ڈیڑھ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے وزیراعظم پاکستان کو سراہا کہ بحیثیت چیرمین جموں و کشمیر کونسل انہوں نے مذاکراتی عمل کی نگرانی کے لیے دو وفاقی وزراء بھیجا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا سلسلہ تقریباً 12 تا 13 گھنٹے جاری رہا اور اس دوران 90 فیصد مطالبات تحریری شکل میں تسلیم کر لیے گئے۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ تحریری معاہدے میں پولیس مقدمات ختم کرنے، معطل سرکاری ملازمین کی بحالی، گندم، بجلی اور لوکل گورنمنٹ سے متعلق مطالبات شامل ہیں اور ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
تاہم دو اہم مطالبات, مہاجرین کی نشستیں ختم کرنا اور وزراء کی تعداد میں کمی — آئینی ترمیم کے متقاضی ہیں، اس وجہ سے ان دونوں نکات پر پیش رفت نہ ہو سکی اور ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان آئینی نوعیت کے معاملات بعد میں حل کیے جائیں گے اور فی الوقت مذاکراتی دروازے کھلے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر کو کال دیے گئے احتجاج کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نوے فیصد مطالبات پہلے ہی منظور ہو چکے تھے۔
انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا جائے کیونکہ اس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا اور معاملے کا حل ممکن نہیں۔چوہدری انوار الحق نے خبردار کیا کہ پرتشدد مناظر سے دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور اس صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر غلط رنگ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف لندن میں موجود ہیں اور واپسی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین سے ملاقات کریں گے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ کہا کہ حکومت مذاکرات بحال کرنے کے لیے تیار ہے اور مظفرآباد، راولاکوٹ سمیت جہاں بھی ضرورت ہو مذاکراتی ٹیمیں بھیجی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی رہنماؤں سے تحمل اور ذمہ دارانہ بیانیہ اپنانے کی بھی اپیل کی#