مظفر آباد،حکومت پاکستان اورعوامی ایکشن کمیٹی کےمذاکرات شروع

مظفر آباد،حکومت پاکستان اورعوامی ایکشن کمیٹی کےمذاکرات شروع

مظفر آباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) حکومت پاکستان کے اعلی سطحی وفد اورجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیاں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں ۔

 

وفاقی وزیر طارق فصل چوہدری نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا ایک اعلی سطحی وفد آج مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے۔

 

وفاقی حکومت کے وفد میں وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال ، سرداریوسف، امیرمقام، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر قمرزمان کائرہ اور سابق صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان شامل ہیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے وفد میں کورممبر شوکت نواز میر اور دیگر بھی شامل ہیں۔

 

طارق فضل چوہدری کی طرف سے شیئر کی گئی تصویر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے تین ارکان کو بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔آزاد کشمیر حکومت نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔

 

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے ساتھ احتجاج کر رہی ہے۔ ان مطالبات میں انفراسٹرکچر کی بہتری، صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی، جنگلات کے کٹاو کو روکنے، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی کشمیر اسمبلی میں 12 نشستوں کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

 

عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ حکومت نے گذشتہ برس 8 دسمبر کو طے پانے والے معاہدے کے بعد کیے گئے نوٹیفیکیشنز پر عمل نہیں کیا۔بدھ کو کشمیر کے تمام اضلاع سے مظاہرین کے قافلے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب بڑھتے رہے۔

 

مظاہرین راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے سہ پہر میں مظفرآباد پہنچے۔باغ سے آنے والے مظاہرین کا دھیرکوٹ کے نواحی علاقے چمیاٹی میں سکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا۔

 

آزاد کشمیر حکومت نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔

 

آزاد کشمیر کے تمام شہروں میں احتجاج سے ایک دن قبل 28 ستمبر کی دوپہر سے موبائل فون اور تمام انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئیں جس سے اطلاعات کی رسائی اور شہریوں کے باہمی رابطوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

حکومتحکومت پاکستان اورعوامی ایکشن کمیٹی کےمذاکرات شروعمظفر آباد