عوامی مسائل کے حل کیلئے ایس ایس پی میرپور کی کھلی کچہری
میرپور(کشمیر ایکسپریس نیوز)ایس ایس پی میرپور خرم اقبال نے تھانہ تھوتھال میں کھلی کچہری لگا کر عوامی مسائل سنے،
اس موقع پر ڈی ایس پی حاجی سکندر اعظم،ایس ایچ او تھوتھال فیصل صدیق،ایس ایچ او سٹی عامر فاروق اور ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر محمد جاوید ملک سمیت سینکڑوں افراد بھی موجود تھے۔
کھلی کچہری میں درجنوں خواتین و مرد حضرات نے اپنی تحریری اور زبانی شکایات کیں، زیادہ تر شکایات پلاٹس،زمینوں کی خریداری،بیرون ممالک ویزوں،پرمٹ کے لین دین کے متعلق تھیں کئی خواتین نے اپنے مسائل روتے ہوئے بیان کیے،
ایس ایس پی خرم اقبال نے خواتین کی شکایات پہلے سنی اور ان کے حل کے لیے موقع پرہدایات دے کرانھیں بھیج دیا۔کھلی کچہری میں شکایات کنندگان میں مسماۃپوشمال اختر، شگفتہ بیگم،سیلم اختر،یاسمین کوثر،نوال سردار،سید منور شاہ،سبط الحسن،قاسم نذیر،ثاقب شاہ،محمد عجائب،ابرار،ذیشان الحق، راحیلہ مظفر، محمد شاہد،محمد منیر،محمد ندیم، ارشد، کونسلر فاروق گوندل،فیصل ایوب، بلال خالق سمیت دیگر افراد نے بھی اپنی شکایات کیں۔
شکایت کنندگان نے لاکھوں روپے اور ہزاروں پاؤنڈ کے عوض برطانیہ اور یورپی ممالک کے ویزے پرمٹ کے لین دین کے متعلق فراڈسمیت منشیات فروشی اوردیگر جرائم کے بارے میں شکایات کیں۔
ایس ایس پی خرم اقبال نے منشیات کے خاتمے کے لیے ایس ایچ او صاحبان کو ہدایات دیں کہ جس ایریا میں منشیات فروشی ہوگی اس ایریا کا ایس ایچ او وہاں نہیں رہیگا۔منشیات فروشی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جن افرادکے ساتھ ویزہ ایجنٹوں نے فراڈ کیاہے ان ایجنٹوں کے خلاف پرچے درج کرکے قانونی کارروائی کرکے انھیں کیفرکردارتک پہنچائیں گے۔
کوٹلی سے ایک شہری شاہد اسلم نے ویزہ ایجنٹ محمد عدیل کے خلاف 21 ہزار پاؤنڈ، محمد معروف نے بیرون ملک یوکے کے ویزہ کے لئے ایک کروڑ 25 لاکھ نادیہ ظفر کو دینے،قاسم نزیر نے شکایت کی اس نے 12 ہزار پاؤنڈ ویزے کے لئے دیئے،
ایک اور خاتون پوشمال کے ساتھ دس لاکھ 30 ہزار،ایک خاتون شگفتہ بیگم نے 43 لاکھ روپے ویزہ ایجنٹ مرزا انصر کو دیئے، محمد منیر نے 11 لاکھ 50 ہزار روپے ویزہ پرمٹ کے لئے ایجنٹ کودیئے گئے،سیلم اختر اور یاسمین کوثر نے پلاٹ کے لئے ابرار اور راجہ محمد ایوب کو لاکھوں روپے دیئے جبکہ مذکوران کو نہ تو پلاٹ دیئے گئے نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
ایس ایس پی خرم اقبال نے بعض مسائل اور شکایات کا موقع پر ازالہ کیا اور بعض شکایات پر متعلقہ ایس ایچ او صاحبان کو ہدایات دیں کہ وہ کھلی کچہری میں کی جانے والی شکایت کا دو تین دنوں میں ازالہ کرکے رپورٹ انہیں پیش کریں اور جن افراد کو لین دین،ویزوں اور فراڈ کے حوالے سے رقم وصول کی ہیں ان کی ریکوری کی جائے اور جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انھوں نے عوام الناس سے کہاکہ پولیس عوام کی جان ومال،عز ت وحرمت کی محافظ ہے اور اس حوالے سے تھانوں کے اندر مختلف جرائم کے خاتمے کے لئے جو بھی ایف آئی آر اور پرچے درج ہوئے ہیں پولیس ان کا قانون کے مطابق جائزہ لیکر ان کے چالان معزز عدالتوں میں پیش کرے گی تاکہ معاشرے سے برائیوں،منشیات اور دیگر جرائم کا خاتمے ہوسکے
انہوں نے کہا کہ پولیس شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور معاشرے میں قیام امن کے لئے قانون و آئین کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنارہی ہے۔ عوام الناس کو پولیس سے ڈرنے کے بجائے پولیس پر اعتماد کرنا چاہیے اور اپنے مسائل بلاخوف وخطر پولیس کوپیش کرنے چاہیے تاکہ ثبوت اور حقائق کی بناپران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
عوام الناس کے تعاون کے بغیر پولیس اپنی بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔عوام اور پولیس کے باہمی اشتراک سے ہی معاشرے کو پرامن اور پُرسکون بنایا جاسکتا ہے۔