نیوٹیک کے پہلےاسکلز امپیکٹ بانڈسےمالی اعانت کانیادور

نیوٹیک کا پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کے ذریعے ہنرمندی کی مالی اعانت کے نئے دور کا آغاز؛ وزیرِ خزانہ,وزیر تعلیم نتائج پر مبنی اصلاحات کی ستائش

 

اسلام آباد(رازق بھٹی) پاکستان کی تاریخی سنگِ میل، ملک کے پہلے نجی سرمایہ سے مالی اعانت یافتہ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ (PSIB) کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔ بانڈ وزارتِ خزانہ کی ضمانت کے تحت تین سالہ مالیاتی نظام کے پہلے مرحلے میں ایک ارب روپے کے پائلٹ ٹرینچ کے ساتھ شروع کیا گیا، جس کے ذریعے وسیع، مؤثر اور قابلِ توسیع تکنیکی مہارتوں کے فروغ کا پروگرام نافذ کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق

نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) نے اس بانڈ کا باضابطہ اجرا نیوٹیک ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں مالیاتی دستاویزات پر دستخط کی تقریب کے ذریعے کیا گیا پاکستان میں نتائج پر مبنی مہارتوں کی مالی اعانت کی جانب ایک اہم اور انقلابی قدم ہے۔ بانڈ ایسے قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جن میں سرٹیفکیشن، روزگار کی فراہمی اور ہر تربیت یافتہ فرد کے لیے کم از کم چھ ماہ تک ملازمت میں برقرار رہنا شامل ہے۔ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ روایتی ان پُٹ پر مبنی سرکاری اخراجات سے ہٹ کر نتائج پر مبنی اور نجی شعبے کے تعاون سے سماجی سرمایہ کاری کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مستقبل میں اس ماڈل کو مرحلہ وار اس انداز میں وسعت دی جائے گی کہ اگلے مراحل میں ادائیگی کو تربیت یافتہ افراد کی تنخواہوں کے ایک معمولی حصے سے منسلک کیا جا سکے، جس سے طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنایا جائے اور پاکستان کی آبادیاتی صلاحیت سے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اس سے قبل 25 جولائی 2025 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کی منظوری دی تھی، جو نیوٹیک کی قیادت میں ایک جدید، نتائج پر مبنی مالیاتی اقدام ہے۔ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کا پہلا ایسا Pay-for-Success نظام ہے جس میں سرکاری ادائیگیاں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ روزگار اور ملازمت میں برقرار رہنے کے نتائج سے منسلک ہیں۔

تقریب میں وفاقی وزیرِ خزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، خالد مقبول صدیقی، سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری OPHRD، صدر بینک آف پنجاب، ظفر مسعود اور مختلف ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ حکومت کی جانب سے روایتی بجٹ پر مبنی سماجی اخراجات سے ہٹ کر نتائج، شواہد اور احتساب پر مبنی نظام کی طرف ایک وسیع تر اور اسٹریٹجک تبدیلی کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ سال انہیں سوشل امپیکٹ فنانسنگ سے متعلق کثیر فریقی کمیٹی کی سربراہی سونپی تھی، جس نے پالیسی سازوں، ترقیاتی ماہرین، ٹیکنالوجی پارٹنرز، بین الاقوامی اداروں اور مالیاتی شعبے کے ماہرین کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک تیار کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس فریم ورک میں چھ قومی ترجیحی ستون شامل ہیں جن میں سب سے اہم تعلیم اور انسانی سرمایہ ہے، جبکہ دیگر میں صنفی مساوات، صحت و بہبود، آبادی میں توازن، ماحولیاتی مزاحمت، غربت اور ہجرت شامل ہیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے پروگرام کے ڈیزائن میں صنفی شمولیت کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دیتے ہوئے برٹش ایشین ٹرسٹ کی اس سفارش کو سراہا کہ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کے تحت 40 فیصد مستفید ہونے والے افراد خواتین ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور قیادت پاکستان کی معاشی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایک ارب روپے کی ضمانت ایک محرک کردار رکھتی ہے جس کا مقصد نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور اس نئے مالیاتی ڈھانچے کی ساکھ قائم کرنا ہے۔ یہ معاونت بطور پروف آف کانسیپٹ ہے، جس کے تحت مستقبل میں خودمختار ضمانتوں پر انحصار کم کیا جائے گا اور ادارہ جاتی و سرمایہ منڈی کے سرمایہ کاروں کی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ بالآخر ایسا ماڈل تشکیل دیا جا سکے جو حکومتی بیلنس شیٹ پر بوجھ ڈالے بغیر کام کر سکے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیوٹیک کی قیادت، اسٹیئرنگ کمیٹی، فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO) اور بینک آف پنجاب کو اس تاریخی اقدام پر مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ حکومت مہارتوں، پیداوار اور روزگار کو قومی اقتصادی منصوبہ بندی کا مرکزی جزو بنائے رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

قبل ازیں، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیوٹیک، محمد عامر جان نے استقبالیہ خطاب میں پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کو پاکستان کے ہنرمندی کے سفر کا ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیوٹیک نے حکمرانی، مالی شفافیت، صوبائی رابطہ کاری اور صنعت کے ساتھ روابط میں جامع اصلاحات متعارف کروا کر مہارتوں کی تربیت کو ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم، SIFC قیادت، پلاننگ کمیشن، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے تعاون، خصوصاً بینک آف پنجاب، برٹش ایشین ٹرسٹ اور EY کا شکریہ ادا کیا۔

وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دستخطی تقریب ایک بہتر پاکستان اور روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے ترقیاتی شراکت داروں بالخصوص FCDO اور برٹش ایشین ٹرسٹ کے تعاون کو سراہا۔

تقریب سے صدر بینک آف پنجاب، ظفر مسعود صاحب، وائس چیئرمین برٹش ایشین ٹرسٹ، آصف رنگون والا صاحب، پاکستان میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر، میٹ کینل صاحب اور چیئرپرسن نیوٹیک، گلمنہ بلال احمد نے بھی خطاب کیا۔ چیئرپرسن نیوٹیک نے اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں کے لیے قابلِ پیمائش نتائج فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ نے تمام ضروری پالیسی، قانونی اور مالی منظوریوں کا عمل مکمل کر لیا ہے، جن میں SIFC ایپکس کمیٹی، فنانس ڈویژن، پلاننگ کمیشن، لا ڈویژن، نیوٹیک بورڈ آف مینجمنٹ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری شامل ہے۔ یہ پروگرام تعمیرات، سیاحت، ٹیکسٹائل، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور زراعت جیسے ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔

یہ اقدام فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO) کی معاونت سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ نیوٹیک نفاذی ادارہ ہے، بینک آف پنجاب انڈر رائٹر اور ارینجر کے طور پر جبکہ برٹش ایشین ٹرسٹ پروگرام مینجمنٹ فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کا آغاز پاکستان کے مہارتوں کے شعبے میں ایک بڑی اصلاح ہے، جو نتائج پر مبنی عوامی مالی اعانت اور شراکت داری پر مبنی ترقی کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتا ہے۔

 

نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) 2005 میں قائم کیا گیا۔ یہ وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے، جو پالیسی سازی، نصاب کی منظوری، تربیت اور مجموعی اصلاحات کا ذمہ دار ہے۔

نیوٹیک کے پہلےاسکلز امپیکٹ بانڈسےمالی اعانت کانیادور