وزیراعظم کا اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا
اسلام آباد (رازق بھٹی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا افتتاح کر دیا
وزیراعظم صحت کارڈ کا اجراء،2016 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت میں صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کیا گیا تھا، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی
اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 ہسپتال پروگرام میں شامل ہیں، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے وزیر اعظم ہاوس میں وزیر اعظم صحت کارڈ کی تقریب کے انعقاد کے دوران اجراء کیا
تقریب میں وزیر صحت مصطفی کمال، سربراہ / CEO وزیر اعظم صحت کارڈ ڈاکٹر محمد ارشد نے خطاب کیا، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول عوام کا بنیادی حق ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔
حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر یہ سہولتیں فراہم کر رہی ہے، صوبائی سطح میں تیزی سے پروگرام عوام تک پہنچا، لاکھوں خاندان اس سے مستفید ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ صحت سے زیادہ زندگی میں کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے،صحت ہوگی تو تعلیم ،کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور مخالفین کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،اسلام آباد ،آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھائیوں اور بہنوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے ،اس کے لئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ،سیکرٹری صحت اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے، پاکستان میں اشرافیہ امریکہ ،یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئے مہنگے ترین علاج کا انتظام کرا سکتی ہے لیکن عام آدمی ،مزدوروں اور غریب طبقے کے لئے بہت مشکلات ہیں
صحت ہوگی تو انسان باوقار طریقے سے روزگار کما سکے گا، صحت ہوگی تو نوجوان کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کریں گے ،صحت ہوگی تو ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے،ریاست عام شہری کے علاج کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجراء کی تجویز قابل غور ہے،سندھ کا یقیناً اپنا پروگرام ہوگا ،وزیراعلیٰ سندھ سےاس حوالے سے بات کر کے اس کا حل نکالیں گے تاکہ وہاں پر بھی یہ سہولت میسر ہو۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی صحت کے پروگرام موجود ہیں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2016 میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے
حکومت صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرے گا،۔انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جو وزیراعظم صحت کارڈ استعمال نہیں کر رہا
کراچی میں صحت کارڈزکے لئے 16 ہسپتال مختص کئے گئے ہیں۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ صحت کارڈ یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے
غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ خط غربت سے اس لئے نیچے چلے جاتے ہیں کہ وہ صحت کے اخراجات برداشت نہیں کرپاتے ۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا تاریخی اقدام ہے،
شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، صحت کارڈ پروگرام ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 10 سال کی کوششوں کے بعد یہ پروگرام یونیورسل ہے ،600 سے زائد پبلک اور پرائیویٹ ہسپتال کیش لیس علاج فراہم کریں گے ،گلگت کے پہاڑی علاقوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک ہر کسی کو مفت سہولت حاصل ہوگی