کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو دنیا نظر انداز نہیں کر سکتی،وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یورپی صحافی و مصنف سیڈرک گربیہائے کی کتاب “Kashmir – Wait and See” کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فن، صحافت اور تخلیقی اظہار مظلوم اقوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں، عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ خطے میں دیرپا امن اور انصاف کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، ہجرتیں، فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی نوعیت اور اس کے حل کی ضرورت کو تسلیم کیا جا سکے۔
کشمیری عوام انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں حقِ خود ارادیت کا موقع ملے اور بھارتی ناجائز قبضہ ختم ہو۔ پچھلی کئی دہائیوں میں کشمیری عوام نے جنگیں، فوجی محاذ آرائیاں اور مسلسل دردناک تکالیف دیکھی ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام نسل در نسل قتل، ہجرت اور قبضے کے اثرات سہتے آئے ہیں۔
سات سال قبل گجرات کے قصائی مودی نے مقبوضہ کشمیر کی شناخت کو ختم کر دیا اور کشمیری عوام نے اس شناخت کے خاتمے کی قیمت ادا کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت اپنی طاقت کے نشے میں ہر چیز کو روندتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان کی عوام اور حکومت کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے ان گنت قربانیاں دے رہے ہیں، کشمیری عوام حکومت و عوامِ پاکستان کے عالمی سطح پر بھرپور ساتھ اور نمائندگی پر مشکور ہیں۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کتاب Kashmir – Wait and See”کی رونمائی کی تقریب میں کیا، جس میں بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے کتاب کے مصنف و صحافی سیڈرک گربیہائے، نیدرلینڈز کی انسانی حقوق کی کارکن مارجان لوکاس، صحافی انا اولیگوونا، پولینڈ کے سابق رکن یورپی پارلیمنٹ ریزارڈ ہنرک چرنیسکی، سویڈن کے سابق رکن یورپی پارلیمنٹ بیورن اینڈرز ہلٹن، بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے کارل ہلٹن اور ہنگری کے صحافی اینڈرے بارکس پر مشتمل وفد بھی موجود تھا۔
تقریب میں وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر اقبال ملک ، سیکرٹری صاحبانِ حکومت انصر یعقوب خان، محترمہ تہذیب النساء، مرزا عامر محمود، کوآرڈینیٹر پولیٹیکل افیئرز برائے وزیراعظم آزاد کشمیر سید اعزادار کاظمی، ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، ڈائریکٹر لبریشن سیل راجہ سجاد سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے سیڈرک گربیہائے کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تصویریں کشمیری عوام کی زندگی، تاریخ، سماج اور جغرافیہ کی حقیقیت بیان کرتی ہیں، یہ تصویریں عالمی سطح پر انسانی زندگی کی قدر اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیری عوام کی آواز پہنچانے میں فن اور صحافت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس سلسلے میں سیڈرک گربیہائے کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے عملی اقدامات کرکے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کرے ۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے نمائش میں پیش کی گئی تصویروں اور کتاب کو حقیقت کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاوشیں کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی، درد، تکالیف، ہجرتوں اور فوجی قبضے کی حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں، اور ان میں مظلوم کشمیری عوام کے صبر، حوصلے اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی جھلکیاں واضح ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی مہمانوں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مبصرین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندگان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے منتظمین اور معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مثبت اور بامقصد اقدامات خطے کا حقیقی تشخص دنیا کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، امن، وقار اور ترقی کے لیے اپنی سماجی اور اخلاقی کوششیں جاری رکھے گی۔
اس موقع پر شرکاء نے نمائش اور کتاب کی رونمائی کو بامقصد قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس قسم کے پلیٹ فارمز عالمی سطح پر مکالمے اور آگاہی کو فروغ دیں گے۔پاکستان فوٹو فیسٹیول کے عنوان سے منعقدہ اس سیمینار کا انعقاد جموں و کشمیر لبریشن سیل، کشمیر کونسل یورپی یونین اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے تعاون سے کیا گیا، جس میں انسانی حقوق کے نمائندگان، مبصرین، طلبا، سول سوسائٹی اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔