اوورسیز کشمیریزکانفرنس آزادکشمیر کے روشن اور معاشی طور پر مستحکم مستقبل کا عملی آغاز ہے،فیصل راٹھور
مظفر آباد( وقائع نگار)وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ آج کی اوور سیز کشمیری کانفرنس کوئی رسمی اجتماع نہیں بلکہ آزادکشمیر کے روشن اور معاشی طور پر مستحکم مستقبل کا عملی آغاز ہے۔
ہم حالات کو بدلنے کی بنیاد رکھنے آئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی طرزِ فکر سے نکل کر آؤٹ آف دی باکس فیصلے کیے جائیں، چیئرمین او پی ایف کی کاوشوں سے یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوا
اوور سیز کشمیر کانفرنس ریاست کے بہترین معاشی مستقبل کے لیے ایک جامع روڈ میپ کی حیثیت رکھتی ہے جسے حکومت نے اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مستقبل سسٹین ایبل انرجی کا ہے، آزادکشمیر ریئر ارتھ منرلز، جیم سٹونز اور دیگر معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،
ہم جنریشنل بینیفٹس کی بات کر رہے ہیں، ایسی پالیسی بنا رہے ہیں جس سے آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوں۔اسی مقصد کے لیے رئیل اسٹیٹ اسپیشل کورٹس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جو نوے دن کے اندر فیصلے سنانے کی پابند ہوں گی۔
اس اقدام سے سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی فیصلوں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو نئی قانون سازی بھی کی جائے گی تاکہ کاروبار اور صنعت کے فروغ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ہماری پالیسی میں تعطل نہیں آئے گا، ہم تسلسل کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور سرمایہ کاروں کو واضح اور مستحکم ماحول فراہم کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اوورسیز کشمیری کانفرنس سے خطاب میں کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
میرپور میں چھ انڈسٹریل یونٹس دستیاب ہیں جبکہ ڈرائی پورٹ کے قیام کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جو درآمدات و برآمدات کے عمل کو آسان بنائے گا۔
رجسٹریشن، لائسنسنگ اور سرٹیفیکیشن سمیت ون ونڈو آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور نادرا کے تعاون سے اس نظام کو مزید مربوط اور ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو غیر ضروری دفتری مراحل سے نجات ملے۔
انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس جدید معیشت کی بنیاد ہیں اور آزادکشمیر کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔
آئی ٹی پارکس پر عملی کام شروع ہو چکا ہے جبکہ پی ٹی سی ایل فائبر وائر بچھانے سے تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ، ای کامرس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز متعارف کرائے گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور ریاست آئی ٹی ایکسپورٹس کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔
انہوں نے ایم ٹی بی سی کی جانب سے چار ہزار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر درست ماحول فراہم کیا جائے تو آزادکشمیر آئی ٹی ہب بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ معیارِ تعلیم بہتر ہو اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب متعارف کرایا جا سکے۔ ریاست میں بہترین ہسپتال انفراسٹرکچر، ڈگری کالجز، یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالجز موجود ہیں جنہیں مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ ریئر ارتھ منرلز، جیم سٹونز اور دیگر معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، مظفرآباد میں سینٹر آف جیم سٹونز قائم کیا جائے گا تاکہ اس شعبے کو منظم اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
مستقبل سسٹین ایبل انرجی کا ہے اور سولر انرجی سمیت قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ سسٹین ایبل ٹورازم حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کو عالمی معیار کے سیاحتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ کاروباری اور سیاحتی ماحول بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ریاست کی معاشی ترقی کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان سے ہمارا رشتہ کلمہ کی بنیاد پر ہے، پاکستان کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔ ہم اپنی شناخت، قانون سازی اور معاشی پالیسی سازی میں بااختیار ہیں اور اسی اختیار کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز کشمیری ریاست کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہیں۔ اوورسیز کمیشن اور اوورسیز کمشنر کے قیام سے ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور انہیں سرمایہ کاری کے ہر مرحلے پر سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ‘‘یہ روشن مستقبل کا آغاز ہے۔ آج کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ یہاں جس مقصد کے تحت آئے ہیں، اسے عملی شکل دی جائے گی۔ ہم سب مل کر آزادکشمیر کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے اور اسے ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی مثال بنائیں گے۔