کشمیریوں اور پاکستان کو کوئی قوت جدا نہیں کر سکتی،فیصل راٹھور
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مکمل ہوم ورک اور واضح حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت نظام کی خامیوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اوورسیز کشمیری ریاست میں سرمایہ کاری کریں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ، قانونی سہولت اور سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اوور سیز کشمیری کانفرنس میں گروپ ڈسکشن سیشن کے بعد گروپس کی جانب سے دی گئی تجاویز پر اظہا خیال کے دوران کیا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز کشمیری سرمایہ کاری لائیں، ہم ان کے تمام اعتراضات اور تحفظات دور کریں گے۔ سرمایہ کاری دراصل رشتے کی تجدید اور اعتماد کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام طویل عرصے سے جدوجہد میں مصروف ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اندرونی وسائل کو متحرک کیا جائے۔ اللہ کے فضل سے تین ماہ کے دوران عوام سے براہِ راست رابطے کیے گئے ہیں اور حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل، بالخصوص جنریشن زی، کے تقاضے مختلف ہیں، اس لیے پالیسی سازی میں جدید سوچ اور ٹیکنالوجی کو شامل کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہلے اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمیں مسئلہ کشمیر کی حساسیت اور ریاستی معاملات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو جمہوری آزادی اور اظہارِ رائے کا مکمل حق حاصل ہے ، انھوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کو کوئی قوت جدا نہیں کر سکتی۔ ریاست میں سیاسی عمل بحال ہو چکا ہے اور استحکام کی طرف پیش رفت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فارن انویسٹمنٹ کانفرنس دراصل ایک آؤٹ آف دی باکس سلوشن ہے جس کا مقصد اعتماد کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ ماضی میں بعض فیصلوں میں تاخیر کے باعث مسائل نے جنم لیا اور کچھ عناصر نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی،
تاہم حکومت نے تحمل اور بردباری سے معاملات کو سنبھالا۔وزیراعظم نے گزشتہ دور میں ہنگاموں کے دوران شہید ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں یا شہری، سب ہمارے اپنے لوگ ہیں اور ریاست کو کسی بھی قسم کی تقسیم یا انتشار کا متحمل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تین روپے فی یونٹ بجلی اور دو ہزار روپے فی من آٹا کی فراہمی بھی ریاست نے کی ، ریاست کے اندر کسی متوازی نظام کی گنجائش نہیں، کیونکہ اس سے انتشار اور عدم استحکام پیدا ہوگا۔
ہمیں مل کر اداروں کو مضبوط بنانا ہے، اعتماد بحال کرنا ہے اور آزاد کشمیر کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز کشمیری ریاست کا سرمایہ اور طاقت ہیں۔ آپ نے یہاں آ کر ہمیں عزت دی، ہم آپ کی تجاویز کا احترام کریں گے،
چیف سیکرٹری کو ہدایت دیں گے کہ جامع پالیسی پیپر تیار کیا جائے۔ ان شاء اللہ آزاد کشمیر کو ایک ماڈل ریاست بنائیں گے جہاں استحکام، ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔