ڈیڈلاک ٹوٹ گیا:ایکشن کمیٹی کابائیکاٹ ختم،حکومت سے مذاکرات دوبارہ شروع، مہاجر ممبران کی چیئرمین شپ کا معاملہ اسپیکر کو بھیجنے پر اتفاق
اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری ڈیڈلاک میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور مذاکراتی عمل دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
سینئر وزیر آزاد کشمیر میاں عبدالوحید کی زیر صدارت حکومت اور ایکشن کمیٹی کی قانونی کمیٹی کا اہم اجلاس وزارت امور کشمیر کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔
اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے سعد انصاری ایڈووکیٹ اور ارباب خان ایڈووکیٹ نے شرکت کی جبکہ حکومت آزاد کشمیر کی نمائندگی سردار جاوید ناز اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راجہ اعجاز نے کی۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری اور دیگر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں مختلف آئینی و قانونی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مہاجرین آزاد جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق معاملات پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران مہاجر ممبرانِ اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی واپسی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے معاملہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی کو بھجوانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ مذاکرات کا اگلا دور عید کے فوری بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ پیدا ہونے والا ڈیڈلاک ختم ہونا خوش آئند پیش رفت ہے اور مذاکراتی عمل کی بحالی سے مسائل کے حل کی راہ نکلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کی لیگل ٹیم کی درخواست پر اگلی نشست عید کے بعد رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی لیگل ٹیم کا کہنا تھا کہ کور کمیٹی کی ہدایت پر وہ دوبارہ مذاکراتی عمل میں شریک ہوئے ہیں اور حکومت کو اپنے تمام تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ان کے مؤقف کو سنا ہے اور امید ہے کہ مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھیں گے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق کئی دنوں سے جاری بائیکاٹ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ نشستوں میں مہاجرین اور دیگر آئینی و انتظامی معاملات پر پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔