پاکستان کی تاریخ کا انوکھا اور خلافِ روایات کیس: دادا سردار الیاس نے پوتے عمر تنویر کے خلاف کیس دائر کر دیا، سینٹورس مال تنازع نے نئی مثال قائم کر دی
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی دارالحکومت کے معروف کاروباری مرکز سینٹورس مال کی ملکیت اور کنٹرول پر جاری تنازع نے خطرناک رخ اختیار کر لیا،
جہاں اربوں روپے مالیت کے اس منصوبے کی ملکیت کے دعویدار سردار الیاس خان نے اپنے ہی بیٹے اور پوتے عمر تنویر کے خلاف باقاعدہ قانونی جنگ چھیڑ دی، جسے قانونی، سماجی اور اخلاقی حلقوں میں ایک غیر معمولی اور متنازع اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
سینئر سول جج اسلام آباد کی عدالت میں جمع کرائے گئے ریکارڈ اور دستیاب دستاویزی شواہد کے مطابق پاک گلف کنسٹرکشن کے تحت قائم اس بڑے کمرشل منصوبے میں سردار تنویر الیاس اور عمر تنویر نہ صرف شراکت دار ہیں بلکہ ان کے حقوق باضابطہ معاہدوں میں درج ہیں
اس کے باوجود سردار الیاس خان کی جانب سے دائر کیس میں انہیں انتظامی امور سے الگ کرنے اور یہاں تک کہ سینٹورس مال میں داخلے سے روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر قانونی ماہرین نے ابتدائی طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا سنگین سوال اٹھا دیا ہے
دوسری جانب سردار یاسر الیاس کی طرف سے بھی غیر قانونی عہدہ حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ بطور کوآرڈینیٹر اختیارات کا ناجائز استعمال اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس اربوں روپے کی پراپرٹی پر مکمل قبضہ کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں
اور ذرائع اس تمام تنازعے کا مرکزی کردار یاسر الیاس کو قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس تمام صورتحال کے پیچھے محض خاندانی اختلاف نہیں بلکہ کاروباری کنٹرول پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کی حکمت عملی کارفرما ہے،
جبکہ اسی سلسلے میں سردار یاسر الیاس کو متنازع انداز میں خود ساختہ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جس تقرری کو دیگر شراکت دار پہلے ہی چیلنج کر چکے ہیں اور اسی تناظر میں مالی بے ضابطگیوں، شفافیت کے فقدان اور دیگر سرمایہ کاروں کو نظرانداز کرنے جیسے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
تاہم اس پورے معاملے کا سب سے متنازع اور شدید تنقید کا باعث بننے والا پہلو سردار الیاس خان کا اپنے ہی پوتے عمر تنویر کے خلاف براہِ راست قانونی محاذ کھولنا ہے، جسے قانونی ماہرین خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار پر کاری ضرب قرار دے رہے ہیں، کیونکہ پاکستانی اور بالخصوص کشمیری قبائلی معاشرت میں اس نوعیت کی مثال نہ ہونے کے برابر ہے،
ناقدین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ایک سخت قانونی حکمت عملی ہے بلکہ خاندانی رشتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق پونچھ کے عمائدین نے اس سنگین سینٹورس مال تنازع کو حل کرنے کے لیے جرگہ بلایا اور سردار الیاس خان، سردار تنویر الیاس اور دیگر فریقین کو مصالحت کی پیشکش کی، تاہم اطلاعات ہیں کہ سردار الیاس خان نے معززین کے اس جرگے کے ساتھ پہلے تال مٹول کیا اور پھر جرگے کے سامنے پیش ہو کر معززین کو تنازعہ حل کرنے بارے اختیار دینے سے صاف انکار کر دیا،
جسے پونچھ کی مقامی روایات اور قبائلی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ قبائلی عمائدین کے حلقوں میں ان کے ممکنہ سماجی بائیکاٹ کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس تنازع کے دوران ماضی میں بھی سردار الیاس خان اور سردار یاسر الیاس کی جانب سے عمر تنویر پر دباؤ ڈالنے کے لیے بے بنیاد مقدمات درج کروائے گئے،
مجموعی طور پر عدالتی ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور باخبر ذرائع سے ملنے والی معلومات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ سینٹورس مال کا تنازع اب محض جائیداد یا کاروبار تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ خاندانی ٹوٹ پھوٹ، سماجی اقدار کی پامالی اور قانونی نظام کے ممکنہ غلط استعمال کی ایک بڑی مثال بنتا جا رہا ہے
جبکہ سردار الیاس خان کی جانب سے اپنے ہی پوتے عمر تنویر کے خلاف اٹھایا گیا قدم اس پورے معاملے کو ایک غیر معمولی اور تشویشناک سطح پر لے گیا ہے جس پر ملک بھر میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔