راولاکوٹ(کشمیر ایکسپریس نیوز) راولاکوٹ کی طرف آنے والے تمام راستوں کی بندش کے باعث شہر میں آٹے سمیت کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔
گذشتہ ایک ہفتے سے سپلائی معطل ہونے کی وجہ سے شہری متبادل اور دور دراز راستوں سے راشن لانے پر مجبور ہیں۔ شہر کی مقامی رہائشی نے صورتحال کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے لانگ مارچ کی کال کے پیشِ نظر صرف ایک ہفتے کا راشن محفوظ کیا تھا،
یہ سوچ کر کہ کارکنان ایک دو روز میں مظفرآباد روانہ ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب ان کے گھر میں آٹا اور گھی بالکل ختم ہو چکا ہے اور قریبی رشتہ داروں کے حالات بھی ان سے مختلف نہیں ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق راستے بند ہونے کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے رشتہ دار بھی واپس جانے سے قاصر ہیں۔
راولاکوٹ کے رہائشی سردار طارق نے بتایا کہ راولپنڈی سے ان کے قریبی عزیز پانچ جون کو ان سے ملنے آئے تھے جو اب یہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: جتنی استطاعت تھی مہمانوں کی خدمت کی، لیکن اب گھر میں راشن ختم ہو چکا ہے اور بازار کی تمام دکانیں بند ہیں۔
پہلے کوٹلی اور پلندری سے موٹر سائیکل پر کچھ سامان آ جاتا تھا، لیکن اب شہر میں پیٹرول بھی نایاب ہو چکا ہے۔ پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے اس سنگین صورتحال پر انتظامیہ کا مؤقف دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کو دکانیں بند رکھنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ: لوگوں نے اپنی مرضی سے دکانیں بند کر رکھی ہیں، اس لیے انتظامیہ انہیں زبردستی دکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ میرپور اور بھمبر میں کاروباری مراکز کھلے ہیں۔
دوسری جانب، انتظامیہ کے اس دعوے کے برعکس عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ پورے آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مکمل اور کامیاب پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے اور عوام رضاکارانہ طور پر تحریک کا حصہ ہیں۔