برطانیہ،£2.4 ملین کے تعلیمی فراڈ کا ماسٹر مائنڈ بے نقاب

برطانیہ کے شہر لیورپول میں 43 سالہ پاکستانی نژاد نجی ٹیوٹر شاہد عدنان کو 120 سے زائد طلبہ کی جانب سے امتحانات دینے، اسائنمنٹس مکمل کرنے اور آن لائن ٹیسٹ جمع کرانے کے عوض تین لاکھ پاؤنڈ کمانے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

استغاثہ کے مطابق شاہد عدنان، جو بطور ایمیزون ڈلیوری ڈرائیور بھی کام کرتا تھا، کا فراڈ اس وقت بے نقاب ہوا جب 2023 میں ایک طالب علم نے مشکوک کورس ورک پر مشتمل یو ایس بی ڈرائیو جامعہ کے کمپیوٹر سائنس کے استاد ڈاکٹر ٹام بیری کے حوالے کی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ شاہد عدنان اپنی کمپنی **اسٹڈی شارپ لمیٹڈ** کے ذریعے طلبہ کے لاگ اِن تفصیلات استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے نظام میں داخل ہوتا، اسائنمنٹس جمع کراتا اور امتحانات دیتا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی طرزِ زندگی اس کی ظاہر کردہ آمدن سے کہیں زیادہ شاہانہ تھی۔ اس کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 24 لاکھ پاؤنڈ موجود تھے، جبکہ وہ مہنگی آڈی اور بی ایم ڈبلیو گاڑیاں استعمال کرتا اور پرتعیش گھر میں رہائش پذیر تھا۔

عدالت میں شاہد عدنان نے جعلسازی، غیر مجاز کمپیوٹر رسائی اور منی لانڈرنگ کے الزامات قبول کر لیے۔ پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنی غیر قانونی آمدن چھپانے کے لیے پیچیدہ مالی لین دین کا سہارا لیا اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتا رہا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس دھوکہ دہی کا بروقت سراغ نہ لگایا جاتا تو غیر اہل افراد ڈگریاں حاصل کرکے ایسے شعبوں میں پہنچ سکتے تھے جہاں معاشرے کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

£2.4 ملین کے تعلیمی فراڈ کا ماسٹر مائنڈ بے نقابرطانیہ
Comments (0)
Add Comment