آزاد کشمیر انتخابات،میرپور ڈویژن میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ توقعات سے کم، انتخابی رونقیں ماند،سیکورٹی کے سخت انتظامات،عوامی جوش و خروش بھی غائب
میرپور (کشمیر ایکسپریس نیوز)آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے دوران میرپور ڈویژن میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ توقعات کے برعکس انتہائی کم رہا، جبکہ ماضی کی نسبت اس بار انتخابی ماحول میں وہ جوش و خروش اور گہما گہمی دکھائی نہ دی جو ہمیشہ انتخابات کا خاصہ سمجھی جاتی تھی۔ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی تعداد محدود رہی اور عوامی شرکت بھی ماضی کے مقابلے میں کم نظر آئی۔
انتخابات کے پیشِ نظر انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے تاکہ انتخابی عمل پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔
اگرچہ بیشتر علاقوں میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی، تاہم گلپور، سماہنی، بھمبر اور نکیال سمیت چند مقامات پر ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ نکیال میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا، جس کے باعث علاقے میں شدید افسوس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ماضی میں انتخابی دن میرپور ڈویژن کے مختلف حلقوں میں ایک تہوار کا سماں ہوتا تھا۔ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کی طویل قطاریں، کارکنوں کا جوش، گاڑیوں کے قافلے، انتخابی کیمپوں کی چہل پہل اور عوامی دلچسپی انتخابی ماحول کو منفرد بنا دیتی تھی، مگر اس بار بیشتر علاقوں میں غیر معمولی خاموشی اور سرد مہری نمایاں رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کم ٹرن آؤٹ کی ممکنہ وجوہات میں سیاسی مایوسی، معاشی مشکلات، انتخابی عمل پر عوامی اعتماد میں کمی، سخت سیکیورٹی انتظامات اور انتخابی ماحول میں روایتی سرگرمیوں کا فقدان شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان عوامل کی اہمیت کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں کی آراء مختلف ہیں۔
کم ووٹنگ ٹرن آؤٹ نے سیاسی جماعتوں کے لیے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ وہ عوام کو انتخابی عمل میں بھرپور انداز میں شریک کرنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اب تمام نظریں پولنگ کے اختتام اور نتائج پر مرکوز ہیں، جو یہ واضح کریں گے کہ خاموش رہنے والے ووٹر نے کس کے حق میں فیصلہ دیا اور کم ٹرن آؤٹ کا انتخابی نتائج پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔