آزاد کشمیر،تمام خونریز واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی ، چیف آرگنائزر چوہدری حمید پوٹھی ، ممبر کور کمیٹی خالد یوسف اور دیگر رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی، چیف آرگنائزر چوہدری حمید پوٹھی اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری گفتگو کا واحد ایجنڈا آزاد جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس لیے اس قومی اور حساس مسئلے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے قومی یکجہتی، ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا بحران مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی غلط پالیسیوں، عوامی رائے کو نظر انداز کرنے، سیاسی انتقام اور انتخابی عمل کو متنازع بنانے کا نتیجہ ہے۔ اگر انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جاتے، عوامی مطالبات سنے جاتے، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جاتے اور حالات کو سازگار بنایا جاتا تو آج ریاست اس سنگین بحران کا شکار نہ ہوتی۔آزاد کشمیر کی آبادی بہت کم ہے، جبکہ پاکستان جیسے پچیس کروڑ آبادی والے ملک میں عام انتخابات ایک ہی مرحلے میں منعقد ہوتے ہیں، تو پھر آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ اٹھہتر برس میں ایسی مثال موجود نہیں۔ اس غیر معمولی انتخابی شیڈول نے شروع ہی سے پورے عمل کو مشکوک بنا دیا۔رہنماؤں نے کہا کہ ایسے ماحول میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات ممکن ہی نہیں تھے، اسی لیے پاکستان تحریک انصاف نے کشمیری عوام کے جذبات، زمینی حقائق اور خون خرابے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جسے میرپور ڈویژن سمیت مختلف علاقوں میں انتہائی کم ٹرن آؤٹ نے درست ثابت کر دیا۔ 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات عوامی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور تاریخی طور پر کم ووٹر ٹرن آؤٹ نے ثابت کر دیا کہ کشمیری عوام نے اس انتخابی عمل کو مسترد کر دیا ہے۔ اگر اقتدار پہلے ہی مخصوص جماعتوں کو منتقل کرنا مقصود تھا تو پھر انتخابات کے نام پر ڈرامہ رچانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ابتدا ہی سے مطالبہ کیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو آزاد کشمیر جانے دیا جائے، عوامی شکایات سنی جائیں، محرومیوں کا ازالہ کیا جائے اور عوامی ایکشن کمیٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے، مگر افسوس کہ ان تمام تجاویز کو نظر انداز کرتے ہوئے طاقت اور جبر کا راستہ اختیار کیا گیا۔رہنماؤں نے پرامن شہریوں پر فائرنگ، لاٹھی چارج اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گولی اور لاٹھی سے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے نفرت اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں لوگ خون میں لت پت پڑے رہے، قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سیاسی مفادات کے لیے اس صورتحال کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرپور ، راولاکوٹ سمیت تمام خونریز واقعات کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیری عوام نے تحریکِ پاکستان سے لے کر آج تک بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا عملی ثبوت دیا ہے۔ آج انہی کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کشمیری عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی مؤقف اور مسئلہ کشمیر کے سفارتی مقدمے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اس لیے اس کے پاس مزید اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ موجودہ حکومت فوری مستعفی ہو اور تمام سیاسی و عوامی قوتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک غیر جانبدار قومی حکومت قائم کی جائے، جو مذاکرات کے ذریعے عوام کے جائز مطالبات حل کرے، ریاست میں امن و استحکام بحال کرے اور الیکشن کمیشن کی نگرانی میں پورے آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہی روز آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے تاکہ عوام کو حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کو جیل میں تین سال مکمل ہو چکے ہیں، لیکن عوام کا اعتماد اور حمایت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بانی چیئرمین کی ہدایات کے مطابق 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد ملک بھر میں عوامی جلسوں اور رابطہ مہم کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ہر حال میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے جمہوری، آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.