اسلام آباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جماعت آزاد کشمیر میں انتخابات کے التوا کی حمایت نہیں کرے گی اور انتخابی عمل آئینی مدت کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔
صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے اور موجودہ حالات میں عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے، تاہم آئینی تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت 3 اگست تک ہے جبکہ آئین کے مطابق 4 اگست سے پہلے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے 5 جون کو انتخابی شیڈول جاری کیا اور مزید تاخیر ممکن نہیں تھی۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات مؤخر کرنے کا مطالبہ سامنے آیا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی شیڈول جلد بازی میں جاری کیا گیا، تاہم مسلم لیگ (ن) اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صورتحال پر غلط بریفنگ دی گئی ہے اور کسی سیاسی جماعت کو انتخابات سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
صدر ن لیگ آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی بحالی کے لیے ان کی جماعت اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، تاہم موجودہ انتظامی اور حکومتی ذمہ داری ان جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو اقتدار میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور وزرا پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے آزاد کشمیر میں پیش آنے والے واقعات کی سیاسی ذمہ داری بھی قبول کی جانی چاہیے۔
شاہ غلام قادر نے مزید کہا کہ 1985 سے آج تک انتخابات ملتوی کرنے کی روایت موجود نہیں رہی اور موجودہ حالات میں بھی جمہوری عمل کو بروقت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مشعال ملک کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت مناسب نہیں اور سیاسی قائدین کے خلاف بیانات قابل قبول نہیں ہو سکتے۔
#/S
