پاکستان: مرد کم،خواتین میں سگریٹ نوشی 57 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد(صباح نیوز) پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم خواتین میں سگریٹ نوشی کا رجحان اس کے برعکس بڑھ گیا ہے۔ گیلپ پاکستان کے تجزیے کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران ملک میں مردوں کی سگریٹ نوشی کی شرح 22.2 فیصد سے کم ہوکر 15.8 فیصد رہ گئی، جو تقریباً 29 فیصد نسبتی کمی بنتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران خواتین میں سگریٹ نوشی کی شرح 2.1 فیصد سے بڑھ کر 3.3 فیصد ہوگئی، جو تقریباً 57 فیصد نسبتی اضافہ ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر خواتین میں سگریٹ نوشی کی شرح اب بھی مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، تاہم گزشتہ دس برس میں اس میں مسلسل اضافہ ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے توجہ طلب رجحان قرار دیا جارہا ہے۔ گیلپ پاکستان کے مطابق مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح میں کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں اور آگاہی اقدامات کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ تاہم خواتین میں بڑھتا ہوا رجحان مجموعی قومی اوسط میں بسا اوقات نمایاں نہیں ہو پاتا۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر صرف قومی سطح پر سگریٹ نوشی کے مجموعی رجحان کو دیکھا جائے تو مردوں میں ہونے والی نمایاں کمی کے باعث مجموعی صورتحال بہتر دکھائی دیتی ہے، لیکن صنفی بنیاد پر اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، جس میں خواتین واحد ایسا گروپ ہے جہاں سگریٹ نوشی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ گیلپ پاکستان نے ایسے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے Pakistan Tobacco Insights کے نام سے نیا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی متعارف کرادیا ہے، جو ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس ڈیش بورڈ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تمباکو کے استعمال سے متعلق مختلف اعداد و شمار اور رجحانات کو یکجا کیا گیا ہے۔ ڈیش بورڈ میں گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) اور گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے (GYTS) پاکستان کے اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے جنس اور عمر کے لحاظ سے سگریٹ نوشی کی شرح، مختلف مقامات پر دوسروں کے تمباکو کے دھوئیں سے متاثر ہونے کی صورتحال، سگریٹ کی قیمتوں میں تبدیلی اور تمباکو سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں عوامی رویوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ گیلپ پاکستان کے مطابق اس طرح کے تفصیلی ڈیٹا سے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ تمباکو نوشی کے رجحانات مختلف عمر اور صنفی گروہوں میں کس طرح تبدیل ہورہے ہیں اور کن مخصوص طبقات کے لیے زیادہ مؤثر آگاہی اور تمباکو کنٹرول اقدامات کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جہاں مردوں میں سگریٹ نوشی میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، وہیں خواتین میں اضافے کے رجحان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق مجموعی قومی اوسط کے بجائے صنف، عمر اور دیگر عوامل کی بنیاد پر اعداد و شمار کا تجزیہ تمباکو کے استعمال سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمت عملی وضع کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ گیلپ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ نئے Pakistan Tobacco Insights ڈیش بورڈ کے ذریعے تمباکو کے استعمال سے متعلق دس سالہ اعداد و شمار ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گے، جس سے پاکستان میں تمباکو نوشی کے بدلتے ہوئے رجحانات کو زیادہ جامع انداز میں سمجھنے اور مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے شواہد فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.