مری (کشمیر ایکسپریس نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے، ن لیگ نے ہمیشہ مخالفین سے اچھا سلوک کیا، آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔
مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے کوئی شکایت کا موقع ملے گا۔آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم تھا۔ ہم نے ہمیشہ مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔کچھ شکایات ہم تک پہنچی جس کا مجھے افسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفت کو اتنا آگے نہیں جانا چاہیے کہ وہ دشمنی میں منتقل ہو جائے۔
نوازشریف نے کہا کہ مجھے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہارنے کا بہت دکھ ہوا ہے۔ن لیگ کے اچھے امیدواروں کی شکست کے عوامل کو بھی دیکھنا ہوگا۔انتخابات کے دو مرحلوں میں ن لیگ کو کامیابی ملی۔عوام نے ایک بار پھر ن لیگ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ اگر ن لیگ نے ڈلیور نہیں کیا تو آزادکشمیر کے لوگ ناراض ہوں گے۔ آزادکشمیر کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں۔ آزادکشمیر میں سڑکیں اور اسپتال بننے چاہئیں۔ نواز شریف نے کہا کہ آزادکشمیر کا ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے اس کے اندر اس طرح کے جراثیم داخل ہو جائیں تو اچھی بات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو۔ملک آگے بڑھ رہا ہے، شہباز شریف کی محنت رنگ لارہی ہے۔ شہبازشریف نے حکومت سنبھالی تو ملکی حالات بہت خراب تھے، پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہبازشریف نے رکھی جسے مریم نواز نے آگے بڑھایا، آزاد کشمیر کے عوام پنجاب کی ترقی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
نوازشریف نے کہا کہ مخالفین نے صرف نعرے لگائے، ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا، ملک پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے جا رہا ہے، بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے۔۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ امیر مقام اور رانا ثنا اللہ نے کشمیر الیکشن میں دن رات محنت کی، امیر مقام ایسے کمپین کررہے تھے جیسے ان کا اپنا الیکشن ہو، جس طرح پنجاب بدلا اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کابینہ کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہیے، ہم نے اپنے منشور پر سو فیصد عمل کرنا ہے، آزاد کشمیر میں ترقیاتی سکیمیں بھرپور انداز میں شروع ہونی چاہئیں۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی زیر صدارت مرکزی قیادت کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت وفاقی و پارٹی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور نومنتخب ارکان آزاد کشمیر اسمبلی بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی، آزاد کشمیر میں عوامی خدمت اور ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے نام پر بھی غور کیا گیا، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہیں،
طارق فاروق، کرنل (ر) وقار اور راجہ فاروق حیدر بھی دوڑ میں شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے لیے فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دیا ہے۔ قبل ازیں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست میاں نواز شریف کو ارسال کی گئی،
فہرست میں خواتین کی نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام شامل ہیں۔ٹیکنوکریٹ کی نشست پر راجہ شاداب سکندر، علماء و مشائخ کی نشست پر پیر مظہر سعید، اوورسیز کی مخصوص نشست کے لئے راجہ محمد جاوید کا نام فائنل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد کی حتمی منظوری مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف دیں گے
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.

Comments are closed.