وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت نئی بندرگاہوں کی تعمیر سے متعلق اجلاس
اجلاس میں نئی بندرگاہوں کے حوالے سے فزیبلٹی پر مبنی جائزہ فریم ورک پیش کیا گیا
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں نئی گہرے پانی کی بندرگاہوں کی ترقی کے دوران معاشی نمو اور مضبوط ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔
نئی بندرگاہوں کی تعمیر سے متعلق اعلیٰ سطحی، کثیر الادارہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے، علاقائی ٹرانزٹ تجارت اور بڑھتی ہوئی شپنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی بندرگاہیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بڑی بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی، بزنس ماڈل پر مبنی بندرگاہوں کی ترقی بھی ضروری ہے تاکہ موجودہ بندرگاہوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
جنید انوار چوہدری نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں آئندہ ایک صدی کی بحری توسیع اور معاشی تبدیلی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔
اجلاس میں وزارتِ بحری امور کے ٹیکنیکل ایڈوائزر جواد اختر سمیت 10 متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمیٹی نے وزیر کو اپنی کارکردگی، ممکنہ مقامات کے انتخاب کے عوامل، مطالعاتی عمل اور طریقہ کار پر بریفنگ دی۔
شرکاء نے تین مجوزہ بندرگاہوں (پورٹ 1، پورٹ 2 اور پورٹ 3) کے لیے تکنیکی فزیبلٹی پر مبنی جائزہ فریم ورک پیش کیا، جس میں قدرتی گہرائی، سمندری رسائی اور ساحلی حالات کا تجزیہ شامل تھا تاکہ ہر مقام کی عملی افادیت اور طویل المدتی پائیداری کا تعین کیا جا سکے۔
فریم ورک میں زمین کی دستیابی، مستقبل میں توسیع کی گنجائش اور ماحولیاتی حساسیت کو بھی شامل کیا گیا۔ اس ضمن میں مینگرووز، محفوظ علاقوں کی موجودگی اور مقامی آبادی و روزگار پر ممکنہ اثرات جیسے عوامل کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ ماحول دوست ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ سڑک، ریل اور لاجسٹکس نیٹ ورک کے ذریعے اندرونِ ملک رابطہ کاری، ہر بندرگاہ کی مجموعی معاشی و تزویراتی اہمیت، تجارت میں سہولت، علاقائی ترقی اور متبادل انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ ماحولیاتی، تکنیکی، سکیورٹی اور ضابطہ جاتی خطرات اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی۔
کمیٹی وفاقی وزیر کے سو سالہ وژن 2047-2147 کے تحت اس منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے تحت ساحلی علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات پر تین سے چار نئی گہرے پانی کی بندرگاہیں قائم کی جائیں گی، جن میں جدید کارگو ہینڈلنگ سہولیات، گرین انرجی کا استعمال اور ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ سسٹمز شامل ہوں گے۔
کمیٹی نے جامع فزیبلٹی رپورٹ پر بھی کام شروع کر دیا ہے، جس میں تکنیکی نتائج، ہائیڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی، جو جلد وزارتِ بحری امور کو پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ساحلی پٹی سندھ کے سرکریک سے بلوچستان کے جیوانی تک ایک ہزار کلومیٹر سے زائد پر محیط ہے، جبکہ ملک کا خصوصی معاشی زون 2 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر اور براعظمی شیلف تقریباً 50 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2030 سے 2035 کے درمیان پاکستان کی جی ڈی پی ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں بحری تجارت اور متعلقہ صنعتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اندازوں کے مطابق کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ 2035 سے 2045 کے درمیان اپنی مکمل استعداد تک پہنچ جائیں گی۔

Comments are closed.