یاسر الیاس کی تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

یاسر الیاس وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت کی تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

 

اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کی تقرری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

 

آج اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کی تقرری کو چیلنج کیا گیا ہے، جنہیں 9 جولائی 2025 کو میاں محمد شہباز شریف نے مقرر کیا تھا۔

 

درخواست گزار نے سردار یاسر الیاس خان کی بطور وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ “سیاحت” جیسا موضوع آئین کے تحت بالترتیب مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور وفاقی حکومت کے دائرۂ قانون سازی اور انتظامی اختیار میں آتا ہے۔

 

اسی طرح وفاقی قانون ساز فہرست (FLL) میں بھی سیاحت کا کوئی موضوع وفاقی حکومت کے لیے مختص نہیں ہے۔ مزید یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی اور اس کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔

 

درخواست گزار نے یہ بھی بتایا کہ آئین اور قواعدِ کار 1973 کے تحت کوآرڈینیٹرز کی تقرری کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

 

درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ سردار یاسر الیاس خان، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت، کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی، جبکہ حکومتِ پاکستان نے تاحال ریاستِ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

 

درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ سردار یاسر الیاس خان کو بطور وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت اپنے سرکاری فرائض اور ذمہ داریوں کی انجام دہی سے فوری طور پر روکا جائے۔

 

توقع ہے کہ اس درخواست کی سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد کے سنگل بینچ کے روبرو ہوگی۔

 

ڈاکٹر جی۔ایم۔ چوہدری، ایڈووکیٹ، وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان، عدالت میں درخواست گزار کی نمائندگی کریں گے۔

 

یاد رہے کچھ عرصہ قبل پروگرام “دوسرا رخ” میں اس حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کیا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد محکمہ سیاحت وفاقی نہیں بلکہ صوبائی معاملہ ہے اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے سردار یاسر الیاس خان کی بطور مشیر سیاحت تقرری کرنا ممکن نہ ہے اور اب اسی پوائنٹ کو بنیاد بنا کر ان کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

Comments are closed.