بھارتی فوج کشمیریوں کی سوچ پرپہرہ نہیں لگاسکتی،فیصل راٹھور

بھارتی فوج کشمیریوں کی سوچ پر پہرہ نہیں لگا سکتی، کشمیریوں کی منزل صرف پاکستان ہے: فیصل ممتاز راٹھور

مظفرآباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ایوان وزیراعظم آزادجموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ میں کشمیری قوم اور تمام ممبران اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر دارلحکومت مظفرآباد کے دورہ اور قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب پر انکا شکرگزار ہوں۔

 

آزادکشمیر میں موجودہ حکومت کے قیام کے اڑھائی ماہ کے دوران وزیراعظم پاکستان کی تیسری مرتبہ آزادکشمیر آمد آپ کی کشمیریوں سے والہانہ محبت کی عکاس ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اسوقت مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی 9لاکھ فوج نے اپنا جابرانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔ ہندوستان نے کشمیریوں کے وجود پر توپہرہ لگا رکھا ہے لیکن وہ انکی سوچوں پر پہرہ لگانے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔

 

کشمیریوں کی منزل صرف پاکستان ہے جس سے دنیا کی کوئی طاقت انہیں دور نہیں کر سکتی۔ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اہلیان پاکستان تما م انٹری پوائنٹس پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر مقبوضہ کشمیر کی بھائیوں کو یکجہتی کا پیغام دے رہے ہیں۔

 

یوم یکجہتی کشمیر کے اس اہم موقع پر وزیراعظم پاکستان آپ کی اور عسکری قیادت کی مظفرآباد میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے لیے کشمیر کتنا اہم ہے۔

 

میں آج مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے اپنی جانوں کے نذرانے دینے والے شہدوں اور لائن آف کنٹرول پر ہماری حفاظت کرنے والے افواج پاکستان کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور یہ تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی تک اسی طرح جاری رہے گا۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز سب سے پہلے قاضی حسین احمد نے کیا اور انکے بعد میری لیڈر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اسے سرکاری سطح پر منانا شروع کیا آج میں انہیں بھی بھرپور خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ یہ ہمارے اسلاف کی جدوجہد کا حصہ ہے اور اسکی منزل الحاق پاکستان ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا فیصلہ پاکستان بننے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ جب یہاں بیٹھے میرے ساتھی ممبر اسمبلی حسن ابراہیم کے دادا سردار ابراہیم خان کے گھر واقع سرینگر میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی گی۔

 

بعد ازاں ہمارے بزرگ کشمیری لیڈر سردار عبدالقیوم خان نے بھی ہمیشہ الحاق پاکستان کا نعرہ لگایا۔الحاق پاکستان کا نعرہ ہمیں ورثے میں ملا ہے جس کے لیے کشمیری اپنی عزئیں اور عصمتیں لوٹا کر قربانیاں دے رہے ہیں۔

 

پاکستان کے ساتھ ہمارا تعلق کلمہ کی بنیا دپر ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور رشتہ یا تعلق نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ساری سیاسی قیادت نے بلا تخصیص وبلا تفریق کشمیریوں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

 

آپ نے بطور وزیراعظم ہمیشہ ہمارے ساتھ شفقت کی، میری تحریک پر آپ نے دانش سکولوں کا تحفہ دیا۔ اسوقت آزادکشمیر میں 2005کے زلزلہ سے متاثرہونے والے بعض سکولوں کے بچے چھت کے بغیر دھوپ اور بارش میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

 

ان کی تعمیر کے لیے آپ کا تعاون درکار ہے۔ اگر آپ آج 2025-26کے بجٹ میں 5بلین روپے ان سکولوں کی تعمیر کے لیے فراہم کردیں توان بچوں کو چھت میسر آسکے گی۔ آپ کی طرف سے ریاست کو بھرپور وسائل فراہم کیے گئے ہیں جس پر میں تمام ممبران اسمبلی کی طرف سے آپکا شکرگزار ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی وزیراعظم پاکستان خواہ انکا تعلق کسی بھی جماعت سے رہا ہو آزادکشمیر آئے تو تمام سیاسی جماعتوں نے انکا بلاتفریق اور بلا تخصیص بھرپور استقبال کیا۔ یہ کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ محنت کا ثبوت ہے۔

 

ہمیں امید ہے کہ جلد وہ دن ضرور آئے گا کہ کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ جس رشتے کے لیے قربانیاں دی ہیں وہ انہیں حاصل ہو کر رہے گا۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔جبکہ دوسری طرف پاکستان ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کا پشتی بان ثابت ہوا ہے۔

 

کشمیری آج کے دن اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلق کو دنیا کی کوئی طاقت نہ تو کمزور کر سکتی ہے اور نہ ہی اس میں دراڑ ڈال سکتی ہے۔تحریک تکمیل کشمیر اصل میں تحریک تکمیل پاکستان ہے۔

 

 

Comments are closed.