کشمیر کی دختر ڈاکٹر فریحہ کی خودکشی
کشمیر کی دختر ڈاکٹر فریحہ ، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ کی خودکشی: تعلیمی دباؤ اور نظامِ اصلاح کی ضرورت
(تحریر: پروفیسر ملازم حسین بخاری)
حالیہ دنوں میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی فائنل ایئر کی ۲۲ سالہ ہونہار طالبہ فریحہ کی خودکشی کا واقعہ نہایت دلخراش ہے۔ یہ کوئی پہلا کیس نہیں ہے رواں سال کے پہلے دو ماہ میں لاہور میں اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ اس سے قبل ایک 22 سالہ طالب علم نے یونیورسٹی آف لاہور میں اپنی جان لے لی تھی جبکہ ایک اور 21 سالہ طالبہ اسی یونیورسٹی میں شدید زخمی ہو گئی تھیں، جنہیں بروقت طبی امداد دے کر ان کی جان بچا لی گئی۔
ڈاکٹر فریحہ: دخترِ کشمیر کے ادھورے خواب
آزاد کشمیر کے برف پوش پہاڑوں اور باغ کی وادیوں سے اٹھنے والی یہ چمکتی چنگاری، ۲۲ سالہ فریحہ، محض ایک طالبہ نہیں بلکہ اپنے خاندان کی امیدوں کا مرکز تھی۔ ابھی چند ہی مہینوں کی مسافت باقی تھی کہ وہ اپنے گلے میں سٹیتھوسکوپ سجا کر مسیحائی کے اس مقدس سفر کا آغاز کرتی جس کا خواب اس نے بچپن سے دیکھا تھا۔
مگر افسوس! وہ ہاتھ جو دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے تیار ہو رہے تھے، خود وقت کے بے رحم زخموں کی تاب نہ لا سکے۔ وہ بیٹی جس کے سینے پر کامیابی کے تمغے اور گولڈ میڈل سجنے تھے، وہ آج منوں مٹی تلے ابدی نیند سو گئی ہے۔
کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس گردن میں مسیحائی کی پہچان (سٹیتھوسکوپ) ہونی تھی، وہاں آج کفن کی سفید چادر ہے۔ وہ خواب جو آنکھوں میں سج کر ہسپتالوں کی راہداریوں میں روشن ہونے تھے، وہ آج قبر کی تاریکی کی نذر ہو گئے ہیں۔
درِ توبہ پہ وارفتہ پہنچنے کو ہی تھی فریحہ
سرِ راہ روک کر ظالم گھٹا کے ہاتھ کیا آیا؟
کہا جا رہا ہے وہ ذاتی وجوہات اور ذہنی دباؤ کی بنا پر ہوسٹل کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اساتذہ اور طالبات کے درمیان بات چیت کا یہ فقدان (Communication Gap) کیوں ہے؟ تاہم، والدین کی فراخدلی ہے کہ اس المناک حادثے پر غمزدہ ہونے کے باوجود انہوں نے کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے اللہ کی رضا اور بچی کا ذاتی فیصلہ قرار دے کر صبر کا راستہ اختیار کیا ہے۔”
کچھ اہم مشاہدات:
• ذہنی صحت اور آگاہی: جب ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں “مینٹل ہیلتھ سپورٹ” اور اساتذہ کا طلبہ کے ساتھ دوستانہ رویہ کتنا ضروری ہے۔
• والدین کا ردعمل: والدین کا قانونی کارروائی نہ کرنا ان کی شرافت اور صدمے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ تعلیمی اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
انتظامیہ کا مثبت کردار اور ہمدردانہ قیادت
یونیورسٹی کا انتظام اس وقت ایک نہایت قابل اور انسان دوست وائس چانسلر، پروفیسر خالد مسعود گوندل کے ہاتھ میں ہے، جو اپنی محنت اور بصیرت کی بنا پر طلبہ میں مقبول ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد انہوں نے حقائق جاننے کے لیے اہم افراد پر مشتعمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تاکہ شفاف رپورٹ سامنے آسکے۔ پروفیسر خالد مسعود گوندل نے نہ صرف اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، بلکہ اپنی ٹیم کو مرحومہ کے گھر (آزاد کشمیر) بھیجا کہ وہاں جا کر جنازہ میں بھی شرکت کریں اور والدین سے تعزیت کی اور ان کے تحفظات سنے۔ ان کی یہ طالب علم دوست اور ہمدردانہ قیادت نوجوان ڈاکٹروں کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیوسٹی کی ہوسٹل وارڈن ایک سمجھدار، کہنہ مشق ساز ، تجربہ کار اور بہترین منتظم ہیں اور کسی بچی کو ہوسٹل قوانین توڑنے کی اجازت نہیں ہیں
معاشرتی دباؤ اور نفسیاتی مسائل
آج کے دور میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کو حقیقی ماحول سے کاٹ کر تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کے فقدان کی وجہ سے طلبہ اپنے ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کو بانٹنے سے قاصر ہیں۔ جب دکھ اور تکلیف کو والدین، دوستوں یا اساتذہ کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا، تو وہ شدید ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
میڈیکل تعلیم اور نصاب پر نظرِ ثانی
بلاشبہ میڈیکل کی تعلیم مشکل ہے، لیکن موجودہ ‘ماڈیولر سسٹم’ اور پاسنگ مارکس کی بڑھتی ہوئی حد نے طلبہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اصل وجہ جو سامنے آرہی ہے وہ طلبا و طالبات کُش کاریلولم ہے۔
ڈاکٹر فریحہ ان دنوں امتحانات دے رہی تھی اور پیپرز سیٹنگ سے مطمعین نہیں تھی اس لیے
اگرچہ یہ تعلیم ناممکن نہیں، لیکن اسے مقامی ماحول کے مطابق سہل بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا ماحول پروفیسر خالد مسعود گوندل کی وجہ سے بہت پرسکون ہے طالبات اپنے اساتذہ سے بات کر سکتی ہیں اور ہر وقت وائس چانسلر کا آفس بھی ان کے لئے کھلا رہتا ہے اور ان کا موبائل بھی آن رہتا ہے اور وہ ہر مسئلے کا حل نکالنے نے ماہر بھی ہیں۔۔۔۔
کاش یہ مسئلہ فریحہ پروفیسر خالد مسعود گوندل سے ڈسکس کر لیتی یا کم از کم پرنسپل حمید سے بات کر لیتی تو کل اس کے جسم پر سفید کفن کی بجائے سفید وائٹ کوٹ ہوتا۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے معروف طبی ماہرین بشمول پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر محمد عمر، پروفیسر محمود ایاز، پروفیسر ضیاء الحق اور پروفیسر نازلی، پروفیسر سائرہ افضل پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جانی چاہیے، جو ایسا نصاب (Curriculum) مرتب کرے جو ‘طالب علم دوست’ ہو نہ کہ ‘طالب علم کُش’۔ ہمیں ہارورڈ کی نقل کرنے کے بجائے اپنے ملک کے سماجی و معاشی حالات کو مدنظر رکھ کر اصلاحات کرنی چاہئیں۔ کچھ پرنسپلز کو بھی شامل کیا جائے جو میڈیکل ایجوکیشنسٹ ہیں جیسے پروفیسر مہوش عروج کا نام قابل ذکر ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی: شفافیت اور قومی حساسیت
ماشاءاللہ! ادارے نے اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد اعلیٰ نمائندگان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ تاہم، اس عمل کو مزید شفاف اور معتبر بنانے کے لیے درج ذیل نکات نہایت ضروری ہیں:
والدین کا اعتماد:
سب سے پہلے مرحومہ کے والدین کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے اور انہیں یقین دیلایا جائے کہ
ان کی تسلی کے بغیر کوئی بھی رپورٹ ادھوری ہوگی۔
• طالبات کی نمائندگی:
پروفیسر خالد مسعود گوندل طالبات سے براہ راست ملیں اور ان کے مسائل سنیں اور فی الفور حل کرنے کی کوشش کریں اس کے علاوہ اس تحقیقاتی کمیٹی میں طالبات کی نمائندگی لازمی ہونی چاہیے تاکہ ہوسٹل کے ماحول اور طالبات کو درپیش مخصوص نفسیاتی و سماجی مسائل کا حقیقی رخ سامنے آسکے۔
• وقت کی اہمیت: اس واقعے کی رپورٹ ہر صورت تین دن کے اندر منظرِ عام پر آنی چاہیے۔ تاخیر شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
• قومی و تزویراتی حساسیت: ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزاد کشمیر ایک نہایت حساس علاقہ ہے اور فریحہ ‘دخترِ کشمیر’ تھی۔ اس طرح کے لرزہ خیز واقعات کو دشمن عناصر (ملکی و غیر ملکی) اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ اس انسانی المیے کو منفی رنگ دے کر ‘کشمیر کاز’ کو نقصان پہنچانے اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، حقائق کا جلد سامنے آنا ہی افواہوں کے سدِ باب کا واحد راستہ ہے۔
سٹوڈنٹ کونسلنگ:
وقت کی اہم ضرورت اور اساتذہ کا کردار
موجودہ تعلیمی نظام میں ایک بڑا خلا ‘سٹوڈنٹ کونسلنگ’ (Student Counseling) کا غیر فعال ہونا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں، جہاں طلبا تنہائی اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، وہاں اساتذہ کا بطور ‘کونسلر’ کردار کلیدی ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کے شعبے کاغذوں کی حد تک تو موجود ہیں، لیکن ان کا عملی کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
باقاعدہ نگرانی:
ہر ادارے کے سربراہ، پرنسپل اور وائس چانسلر کو چاہیے کہ وہ محض کمیٹیاں بنا کر نہ چھوڑ دیں، بلکہ ہر تیسرے دن کونسلنگ کے عمل کا خود براہ راست جائزہ لیں اور طلبا سے براہِ راست رابطہ رکھیں
بچوں کے مسائل سنیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔۔
اعتماد اور رازداری:
کونسلنگ کے عمل میں ‘رازداری’ (Confidentiality) کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ طالب علم کو یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی پریشانی یا ذاتی بات کسی دوسرے استاد یا ہم جماعت تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی اس کی بنیاد پر اس کے نمبروں یا تعلیمی ساکھ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوستانہ ماحول:
جب تک طالب علم خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا، وہ اپنے دل کی بات نہیں کہے گا۔ اساتذہ کو ایک ‘سخت گیر ممتحن’ کے بجائے ایک ‘مخلص دوست’ بن کر ان کے مسائل سننے ہوں گے۔
اگر یہ نظام فعال ہو جائے، تو فریحہ جیسی کئی قیمتی جانوں کو وقت سے پہلے بچایا جا سکتا ہے۔
والدین اور حکومت کا کردار
* والدین کی ذمہ داری:
والدین، خصوصاً ماؤں کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق استوار کریں۔ ان کی باتیں سنیں، ان کے دکھ کو سمجھیں اور ان پر بے جا سختی کے بجائے ان کا سہارا بنیں۔
* حکومت کے فرائض:
اتنی کٹھن تعلیم کے بعد اگر نوجوانوں کو روزگار نہ ملے تو مایوسی فطری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صحت، تعلیم، انصاف اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنائے تاکہ باصلاحیت ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔
سی پی ایس پی (CPSP) کے لیے تجویز
ایف سی پی ایس (FCPS) پارٹ ون کرنے والے ہر ڈاکٹر کے لیے پارٹ ٹو کی ٹریننگ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اگر ہم اپنے تربیتی معیار کو عالمی سطح کے مطابق ڈھال لیں اور ٹریننگ کے مواقع فراہم کریں، تو ہمارے بچوں کو امریکہ، برطانیہ یا آسٹریلیا جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ وہ اپنے ملک میں رہ کر انسانیت کی خدمت کر سکیں گے۔
