مظفرآباد(کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ ایکشن کمیٹی کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ ہر فریق کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملے اور باہمی مشاورت کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت مہاجرین کے بغیر نامکمل ہے۔ مہاجرین کے طریقہ کار کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مؤقف ہو سکتے ہیں، تاہم آل پارٹیز کانفرنس میں باہمی مشاورت سے ایک مشترکہ قرارداد پیش کی گئی جس پر تمام شرکاء نے اتفاق کیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم فیصل راٹھور نے کہا کہ اس ریاست کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں ایک طویل سفر طے کیا گیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کی حکومت نے ایک جامع ایجوکیشن پیکج دیا جس کے تحت تقریباً ایک ہزار سکول شامل کیے گئے، جو تسلسل کے ساتھ کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایجنڈا، خواہش یا سوچ کسی کی بھی ہو، عوام سب کے اپنے ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے ہمیشہ ریاستی معاملات اور مفادات کو ترجیح دینے کی کوشش کی اور مذاکرات کے عمل سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ منصب پر ان کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر کا رشتہ محبت، کلمے اور باہمی مفادات پر مبنی ہے، اور پاکستان کے صوبوں کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں زیادہ سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے دور دراز علاقوں میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں، یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں، دانش سکول بن رہے ہیں، جبکہ دیہات کی سطح پر بجلی اور سڑکوں کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی موجودہ پوزیشن اور ریاستی نظام کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ ریاست مزید ترقی کر سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے مختصر مدت میں عوام کا سیاست پر اعتماد بحال کیا، گورننس کو بہتر بنایا اور وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کبھی منفی رویہ اختیار نہیں کیا اور ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی۔انہوں نے حالیہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث ماضی میں افراتفری پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات سے سبق سیکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے، متعدد مطالبات منظور کیے گئے، 45 افراد کو ادائیگیاں کی گئیں جبکہ باقیوں کو بھی جلد ادا کیا جائے گا۔ 177 ایف آئی آرز ختم کی جا چکی ہیں اور باقی بھی ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقصد کسی کو ہرانا یا جتوانا نہیں بلکہ ریاست کو افراتفری سے نکالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا مستقبل ہم سب نے مل کر طے کرنا ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کیا تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور کوشش ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کے شہریوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور یہ بھی سوچنا ہوگا کہ موجودہ بیانیہ ریاست کو کس سمت لے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے سات ماہ کے دور میں بھرپور کوشش کی کہ تمام مسائل کو حل کیا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی ایوان کے اندر ضروری ہے، تاہم دیگر جماعتوں کے اپنے مؤقف ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا اور دیگر طبقات پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو گرانے کے لیے مختلف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت طاقت کے استعمال سے گریز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچنا ہوگا کیونکہ دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، آزاد کشمیر کے حالات سے فائدہ اٹھا کر انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے نظام کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور انہیں یقین ہے کہ آئندہ چند دنوں میں عوام حالات پر غور و فکر کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کریں گے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
