جنیوا،کشمیر کا مقدمہ:امجد یوسف کاانسانی حقوق کونسل سے مؤثرخطاب
جنیوا (کشمیر ایکسپریس نیوز)انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کے چییرمین سردار امجد یوسف نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میری تنظیم کونسل کی توجہ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے مسلسل خدشات کی جانب مبذول کروانا چاہتی ہے۔
ہائی کمشنر کے دفتر کی 2018 اور 2019 کی رپورٹس میں طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال، من مانی گرفتاریاں، شہری آزادیوں پر پابندیاں اور منظم استثنیٰ (Impunity) کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔چھ سال گزرنے کے بعد بھی، بامعنی احتساب کی عدم موجودگی نے ان خلاف ورزیوں کو مزید شدت اختیار کرنے کا موقع دیا ہے۔
5 اگست 2019 سے اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں 1000 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں 287 زیرِ حراست ہلاکتیں (custodial killings) شامل ہیں۔
اسی عرصے کے دوران، 2600 افراد پر تشدد کیا گیا اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ طلباء، صحافیوں، وکلاء اور کارکنوں سمیت 33,000 افراد کو یو اے پی اے (UAPA) اور پی ایس اے (PSA) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تشویشناک اعداد و شمار کے باوجود، بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی ہمدردی کے اداروں اور آزاد میڈیا کی رسائی اب بھی شدید محدود ہے۔
وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے علاوہ، گزشتہ سال مئی میں پہلگام کے واقعے کے بعد بھارتی افواج نے آزاد کشمیر اور لائن آف کنٹرول (LOC) کے پار بھی حملے کیے، جس میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ میری تنظیم ہائی کمشنر سے گزارش کرتی ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بامعنی مداخلت کریں اور بھارتی حکام سے کہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کریں
