دنیا کی کوئی طاقت مہاجرین کو ہم سے جدا نہیں کرسکتی،فاروق حیدر
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)سابق وزیراعظم آزادکشمیر و مرکزی رہنما مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کا وجود مسلہ کشمیر کی بنیادی وجہ ہے یہ کوئی حتمی منزل نہیں وہ منزل پوری ریاست میں استصواب راے کے ذریعے پاکستان سے الحاق ہے
یہ 84 ہزار مربع میل کی نمایندہ حکومت ہے جو 5 ہزار مربع میل پر قائم کشمیریوں کی جو دنیا میں جہاں کہیں مقیم ہیں نمایندہ واحد آئینی حکومت ہے اگر مہاجرین کی نشستیں ختم کرنی ہیں تو اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی واپس لینے کا مطالبہ کریں
دنیا کی کوئی طاقت مہاجرین کو ہم سے جدا نہیں کرسکتی یہ نظام بنانے میں ان کا بڑا کردار ہے آزادکشمیر کے آئین کو ختم کرنے یا تیرویں ترمیم کو واپس لینے کی باتیں کی جارہی ہیں اگر ایسا کیا گیا تو اس کے خلاف پوری قوت سے مقابلہ کرہنگے
خواہ کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہوآزادکشمیر کے مذہبی، نظریاتی تشخص پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے آزادکشمیر میں نظریات کو زنگ لگ گیا دیمک چاٹ گئی ہے سابق حکومتیں اور موجودہ بھی ڈرتی ہے کہ کوئی ایسی بات کی تو کوئی ناراض ہوجائیگا
انتخابی سیاست کے نتائج کی کوئی پرواہ نہیں انشائاللہ پوری قوت سے اپنے نظریات پر پہرہ دینگے ہم اپنے مقصد سے پیچھے کیوں ہٹیں؟ کل کو کوئی آکر ہم سے زبردستی رام رام کے نعرے لگواے تو کیا ہم اپنا مقصد بھول جائیں گے؟
حقوق کے نام پر تحریک چلانے والے ہمارے عزیز بیٹے بھانجے بھتیجے ان سے کہتا ہوں کہ وہ بات نا کریں جس سے کل پچھتاوا ہو یہ ریاست قائم ہے تو سب کچھ ہے ورنہ بقول سردار عبدالقیوم خان آزادکشمیر کا رقبہ اور آبادی پاکستان کے کئی اضلاع سے کم ہے میں کسی ڈبل ایجنٹ کی باتوں سے پریشان ہونے والا نہیں
حکومت پاکستان اور اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ یہاں پر ہندوستانی آلہ کاروں کا قلع قمع کریں میرواعظ مولوی یوسف شاہ مرحوم اور ان کے خاندان کی تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے خدمات ناقابل فراموش ہیں
اس خاندان سے سیاسی و مذہبی محاذ پر قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں انہیں اسی بنا پر مہاجر ملت کا خطاب دیا گیا جو امانتا یہاں دفن ہیں پاکستان اور ترکی عالمی استعمار کا اگلا نشانہ ہیں
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشکل ترین حالات میں شاندار فیصلے کیے پاکستان کٹھن دور سے گزر رہا ہے رب العزت سے دعا ہے کہ ملک ترقی کرے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرواعظ مولوی یوسف شاہ مرحوم کی برسی کے موقع پر ان کے مزار کے احاطے میں منعقدہ دعائیہ تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوے کیا اس موقع پر مئیر مظفرآباد سکندر نثار گیلانی سابق مئیر و رہنما مسلم لیگ ن چوہدری منظور سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ اعظم رسول شاہد وانی آصف مصطفائی ملک ایاز عباس قادری راجہ ممتاز فاروق قادری قاضی صدیق شیخ سراج منیر پیرزادہ اقبال چوہدری احسن منظور راجہ سہیل راجہ عام اسلم سمیت بڑی تعداد میں شہریان نے شرکت کی
جبکہ ڈائریکٹر لبریشن سیل راجہ سجاد لطیف، میڈیا کوآرڈینیٹر لبریشن سیل سردار علی شان سمیت لبریشن سیل کے اعلی حکام بھی موجود تھے
راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے نوجوانوں طلبا وکلا خواتین صحافیوں سے گزارش ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ خطہ یہ نظام قائم کیا گیا تھا جس کے لیے چوہدری غلام عباس میر واعظ ہجرت کرکہ آے تھے جس کے لیے لوگوں نے اپنے جان مال عزت آبرو اور لاکھوں جانیں قربان کیں اس کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالیں
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں برہمن کی اعلی نسل آباد ہے جس کے نمائندے پریم ناتھ بزاز جو ہندو تھے لیکن وہ پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کی بقا پاکستان سے وابستہ ہے اور اسی نظریہ پر وہ خود ان کے صاحبزادے اور دیگر حقیقت پسند پنڈت آج بھی قائم ہیں
یہ حکومت پوری ریاست کی نمایندہ حکومت ہے جس کا واحد آئینی ڈھانچہ آزادکشمیر کی شکل میں قایم ہے تحریک آزادی کشمیر کے تمام کردار ہمارے لیے قابل احترام ہیں ہم نے نظریاتی اختلاف کے باوجود مقبول بٹ کی برسی منائی اس پر چھٹی کی وہ بھی ریاست کے باشندے تھے
انہوں نے مہاجرین نشستوں پر الیکشن بھی لڑا ہم نے 13 جولائی کو شہدا کو سلامی دینے کی روایت کا آغاز کیا جسے بدقسمتی سے بعد میں آنے والی حکومتوں نے آگے نہیں چلایا بیس لاکھ سے زائد مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں یہ ان کا اپنا وطن ہے مگر ابھی ہمارے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے
ہجرت آسان کام نہیں اپنے گھر کی ٹپکتی چھت بھی ہجرت میں محلات سے بڑھکر ہوتی ہے کوئی جموں کے مہاجرین کو کیسے فراموش کرسکتا ہے جنہوں نے لاکھوں جانیں قربان کیں مہاجرین نمائندگان سے کہتا ہوں آپ بھی اپنے رویہ پر نظرثانی کریں آپ کو آج یہاں موجود ہونا چاہیے تھا
ہر اہم موقع پر آپ کو تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے جموں کے قتل عام کو کوئی کیسے بھلا سکتا ہے جموں اور پونچھ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین نے آزادکشمیر کا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا
اگر یہ خطہ نا رہا تو پھر ہماری شناخت کیا رہ جائیگی دنیا بھر میں کشمیری جہاں کہیں بھی موجود ہے آزادکشمیر میں اس کی نمایندہ حکومت ہے بدقسمتی سے آزادکشمیر کی سیاست مفادات اور کرسی کے تابع ہوگئی ہے
لوگ نظریات کے بجاے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے لگے ہیں اگر ایسا رہا تو کل یہ اسی مفاد کے تحت رام رام کے نعرے بھی لگا سکتے ہیں میں نے نا پہلے کبھی سمجھوتہ کیا نا آئندہ کروں گا ہمارے لیے نظریات کسی بھی فائدے یا عہدے سے بڑھکر ہیں اور اس کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار ہیں
