تنویر الیاس مدہوش،انوارالحق کٹھ پتلی،سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق نے تنویر الیاس کو مدہوش اور چوہدری انوار الحق کو اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی قرار دیتےہوئے خرابیوں کا ذمہدار قرار دے دیا ،خواجہ سعد کا حکومت اور ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کا مشورہ،دھرنا ختم ہو سکتا ہے، زخم نہیں بھریں گے، آزاد کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں، مذاکرات سے حل ہوگا

ازاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ سعد نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی کشمیریت، پاکستانیوں کی پاکستانیت یا پاکستان اور کشمیر کے تاریخی رشتے پر سوال اٹھانا افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کشمیر ایکشن کمیٹی (JKAC) کے طریقہ کار اور بعض مطالبات سے اتفاق نہیں، تاہم مطالبات پیش کرنے یا ان کے تسلیم نہ ہونے کی بنیاد پر کشمیر دشمنی یا پاکستان سے غداری کے الزامات لگانا نامناسب ہے اور اس سے باہمی فاصلے بڑھتے ہیں۔

خواجہ سعد کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بیڈ گورننس اور وفاقی گرانٹس کے غلط استعمال کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ اس میں شدت اس وقت آئی جب ایک دولت مند لیکن سیاسی جدوجہد سے عاری شخصیت کو “تبدیلی” کے نام پر وزیر اعظم آزاد کشمیر بنایا گیا، جبکہ بعد ازاں سیاسی وفاداریاں تبدیل کروا کر ایک ایسی حکومت قائم کی گئی جسے وہ اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو عجلت اور دباؤ کے تحت بغیر مناسب جائزے کے تسلیم کیا گیا۔ ان کے مطابق پیداواری لاگت سے کم قیمت پر بجلی کی فراہمی اور پورے پاکستان کے مقابلے میں سستی گندم کی فراہمی آزاد کشمیر کے بجٹ پر ناقابل برداشت اور غیر پائیدار بوجھ ہے، تاہم ان فیصلوں کے ذمہ دار سرکاری افسران اور سیاستدان کسی جوابدہی کا سامنا نہیں کر رہے۔

خواجہ سعد نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے بجٹ، وفاقی محاصل کی تقسیم، صوبوں کے حصے اور آزاد کشمیر کو ملنے والے فنڈز کا حقائق اور اعدادوشمار کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے۔ اگر آبادی، رقبے اور آزاد کشمیر سے حاصل ہونے والے وسائل کے تناسب سے خطے کا حصہ کم بنتا ہے تو کسی متفقہ فارمولے کے تحت اس میں اضافہ کیا جائے، جس کے لیے چاروں صوبوں کی حمایت درکار ہوگی۔ بصورت دیگر یہ اعدادوشمار عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے رکھ کر انہیں قائل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد اور عوامی مطالبات کی آڑ میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان نفرت پیدا کرنے، پاکستان اور بھارت کو ایک ہی پلڑے میں رکھنے یا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا شکار کشمیریوں کی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے خودمختاری کے نعرے لگانے والے بعض عناصر کامیاب نہیں ہوں گے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایک عوامی فورم کے طور پر ایکشن کمیٹی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا بھی مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ تشدد، خونریزی اور تلخ کلامی ہو چکی ہے، اس لیے اگر حکومت براہ راست مذاکرات نہیں کرنا چاہتی تو عوامی ایکشن کمیٹی سے بالواسطہ بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

خواجہ سعد نے خبردار کیا کہ مسلسل سختی کے نتیجے میں دھرنا تو ختم ہو سکتا ہے، لیکن لوگوں کے دلوں میں لگنے والے زخم نہیں بھریں گے بلکہ سلگتے رہیں گے۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے تمام مطالبات پر اصرار کرنے کے بجائے لچک کا مظاہرہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی دباؤ میں جتنا بھی اضافہ کر لیا جائے، وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ، مرکزی سیاسی جماعتوں، مشترکہ مفادات کونسل، قومی اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کو اعتماد میں لیے بغیر اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.