پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،ثمینہ احسان

راولپنڈی(کشمیر ایکسپریس نیوز) وومن ونگ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام خواتین اور بچوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے بے قابو مہنگائی اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف 6اگست کو احتجاجی ریلی نکالی۔

یہ ریلی دفتر جماعت اسلامی مریڑ چوک سے شروع ہوئی اور نیشنل پریس کلب، مری روڈ، راولپنڈی کے باہر اختتام پذیر ہوئی جس میں ناظمہ صوبہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان، نائب ناظمات صوبہ آنسہ اشفاق اور رخسانہ غضنفر اور ناظمہ ءضلع راولپنڈی فرحت شمشاد نے شرکت اور خطاب کیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی اور عوام پہ اضافی بوجھ ڈالنے والے محصولات پہ فوری نظر ثانی کرے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لائے، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے، عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے، کمزور طبقے کو تحفظ دیا جائے اور اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کرے تاکہ ملک استحکام کی طرف گامزن ہو ۔

ناظمہء صوبہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنی گاڑیوں کو آگ لگا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ صرف دو سال کی لیوی سے پورے پاکستان کا قرضہ اتر سکتا تھا لیکن وہ لگزری جہاز اور گاڑیاں خریدنے پہ خرچ ہوا۔ عوام کے زخموں پہ نمک چھڑکا جا رہا ہے۔

نائب ناظمہ صوبہ شمالی پنجاب رخسانہ غضنفر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے عوامی مسائل کے لیے کھڑی ہے ۔جماعت اسلامی کی یہ تحریک 22 اگست تک جاری رہے گی۔ سات اگست کو ہونے والی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنائیں ۔ہمارا احتجاج پرامن اور آئینی ہے۔

ناظمہء ضلع فرحت شمشاد نے کہا کہ مہنگائی سے سب سے زیادہ طبقہء نسواں متاثر ہوتا ہے۔ بچوں کی ضروریات کا پورا نہ ہونا ماں کے دل کو کاٹ ڈالتا ہے۔ بجلی گیس کے بلوں کو دیکھ کر پورا گھرانہ پریشان ہو جاتا ہے۔ ظلم کے خلاف نہ بولنا ظلم کو جواز فراہم کرتا ہے۔

ریلی سے مردانہ نظم سے نائب ضلع عثمان آکاش ،امیرِ ضلع سید عارف شیرازی اور نائب امیر جماعت اسلامی نذیر احمد جنجوعہ نے بھی خطاب کیا اور آنے والی خواتین کی ہمت کو داد دی جنہوں نے مردوں کے حصے کا کردار ادا کیا۔

عثمان آکاش نے ٹریفک بندش پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان پچھلے پون صدی سے بندش کا شکار ہے۔ جماعت اسلامی کی آواز بنیے یہ آپ کی اواز ہے۔ امیرِ ضلع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح پہ واپس آ چکی ہیں لیکن 258 روپے لیٹر والا پٹرول اب 333 روپے لیٹر مل رہا ہے اگر بائک چلانے والا روزآنہ پانچ لیٹر پیٹرول استعمال کرتا ہے تو وہ ماہانہ ایک18750 روپے لیوی بھتہ حکومت کو ادا کرتا ہے۔

اب تک اس مد میں ساڑھے 80 ارب روپے سے زائد رقم حکومتی خزانے میں جمع ہو چکی ہے۔ اس کا کیا مصرف ہے؟ کم از کم سودی قرض ہی چکا دیا جائے۔ ملکی اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے اور اپنے اثاثے تعمیر کرنے والی حکومت عوام دشمن ہے۔عوام کی آواز کو طاقت کے استعمال سے کچلنے والی حکومت عوام دشمن ہے۔

نائب امیرِ جماعت نذیر احمد جنجوعہ نے کہا کہ مردوں کے حصے کی ذمہ داری خواتین نے ادا کی ہے،احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو تحریک کا دائرہ وسیع ہوگا#

Leave A Reply

Your email address will not be published.