پروفیسرادیبہ برطانیہ کاروشن ستارہ،نوجوانوں کیلئے مشعل راہ 

پروفیسر ادیبہ ملک، برطانیہ کا روشن ستارہ ،نوجوانوں کیلئے مشعل راہ

تحریر : گوہر الماس خان ،لیڈز یارکشائر

 

عالمی تاریخ میں کبھی کبھار ایسے لمحے آتے ہیں جب ایک فرد کی کامیابی پوری قوم کا وقار بن جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک لمحے کا گواہ آج ویسٹ یارکشائر ہے، جہاں پروفیسر ادیبہ ملک کو بادشاہِ برطانیہ شاہ چارلس نے لارڈ لیفٹیننٹ کے منصب کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ تقرری صرف ایک عہدے کی منتقلی نہیں بلکہ وقت کے ماتھے پر لکھا ہوا وہ سنہری حرف ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ یقین دلائے گا کہ خدمت اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

لارڈ لیفٹیننٹ کا منصب صدیوں پرانا ہے۔ یہ وہ عہدہ ہے جو تاج اور عوام کے درمیان ایک پُل کا کام کرتا ہے۔ بادشاہ کی نمائندگی، شاہی دوروں کا اہتمام، مسلح افواج کی سرپرستی اور کمیونٹیز کو جوڑنا—یہ سب اسی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ مگر جب اس منصب پر ایک ایسی خاتون فائز ہو جو اپنی زندگی کو خدمت اور قربانی کے تسبیحی دانوں میں پرو چکی ہو، تو یہ عہدہ اپنی اصل معنویت کو پا لیتا ہے۔

 

پروفیسر ادیبہ ملک کی زندگی ایک روشن داستان ہے۔ وہ ایک معلمہ کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں مگر ان کا دل محض کتابوں اور کلاس روم کی دیواروں تک محدود نہ رہ سکا۔ انہوں نے 1992 میں QED فاؤنڈیشن سے جڑ کر پسماندہ برادریوں کی زندگیوں کو بدلنے کی شمع جلائی۔ آج تین دہائیوں بعد یہ شمع ایک ایسے آفتاب میں ڈھل چکی ہے جس کی کرنیں ہزاروں گھروں کو امید کی روشنی دے رہی ہیں۔

 

وہ ویسٹ یارکشائر کی ہائی شیرف بھی رہیں۔ یہ عہدہ محض ایک اعزاز نہیں تھا بلکہ ایک امتحان بھی تھا۔ اور ادیبہ ملک نے یہ امتحان اس انداز سے پاس کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد اور محبت کا رشتہ قائم ہوا۔

 

مگر ان کی اصل عظمت ان کے عہدوں میں نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے جوہر میں ہے۔ میں نے انہیں قریب سے دیکھا، پرکھا اور محسوس کیا۔ ادیبہ ملک ایک نہایت مہربان، مخلص، سخی اور محبت کرنے والی دوست ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی ساعتیں اپنی والدہ کی خدمت، اپنے خاندان کی پرورش، اپنی کمیونٹی کی بہتری اور QED فاؤنڈیشن کی کامیابی کے نام کر دیں۔ یہ قربانی کا ایسا سفر ہے جو الفاظ میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔

 

میرے لیے یہ لمحہ بھی باعثِ فخر ہے کہ انہوں نے میری بیٹی میرن ایمن الماس کو مختلف شاہی اور مسلح افواج کی تقریبات میں شامل کر کے اس کے دل میں اعتماد اور حوصلے کے بیج بوئے۔ ایک نوجوان مسلم لڑکی کو یہ یقین دلانا کہ اس کی پہچان باعثِ فخر ہے، دراصل ایک نسل کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔ ادیبہ ملک کی یہ حوصلہ افزائی صرف میری بیٹی کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے ہے جو خواب دیکھنے اور خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کی جرات رکھتی ہے۔

 

ان کی خدمات کا افق وسیع ہے: ہاؤس آف لارڈز اپوائنٹمنٹس کمیشن کی رکن، کابینہ آفس آنرز کمیٹی کی ممبر، ہوم آفس اسٹریٹجک ریس ایڈوائزری بورڈ کی مشیر، اور یارک سینٹ جان یونیورسٹی کی وزٹنگ پروفیسر۔ یہ سب مناصب گواہ ہیں کہ ادیبہ ملک محض ایک نام نہیں بلکہ خدمت کا استعارہ ہیں۔

 

ان کی یہ تقرری اس لیے بھی سنگِ میل ہے کہ وہ برطانیہ کی پہلی ایشیائی نژاد خاتون لارڈ لیفٹیننٹ ہیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو صرف ویسٹ یارکشائر ہی نہیں بلکہ پورے برطانیہ کے دل کو گرماتا ہے۔ یہ ایک ایسی روشنی ہے جو برصغیر کی بیٹیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ منزل دور نہیں، بس ارادے مضبوط ہونے چاہییں۔

 

ادیبہ ملک کا یہ نیا سفر یقیناً محبت، ہم آہنگی اور خدمت کے نئے باب رقم کرے گا۔ وہ نہ صرف بادشاہِ برطانیہ شاہ چارلس کی نمائندہ ہیں بلکہ اس ملک کے ہر دل کی دھڑکن بھی ہیں۔ وہ ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اصل قیادت وہی ہے جو دوسروں کے لیے زندگی آسان کرے، جو اندھیروں میں چراغ جلائے اور جو اپنے کردار سے مستقبل کو روشن کرے۔

 

ادیبہ ملک ایک خاتون کا نام نہیں، ایک تحریک کا عنوان ہیں۔ ان کی قربانیاں، ان کی مسکراہٹ، ان کا اخلاص اور ان کی روشنی آنے والی نسلوں کو یہ یقین دلائیں گی کہ انسان اگر نیت صاف رکھے تو وہ نہ صرف اپنی کمیونٹی بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

 

ویسٹ یارکشائر آج فخر سے کہہ سکتا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی نمائندہ ہے جو صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت ہے۔ اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ پروفیسر ادیبہ ملک انشا اللہ آنے والے دنوں میں ہماری نئی نسلوں کے لیے امید کا چراغ اور رہنمائی کا مینار ثابت ہوں گی

Comments are closed.