مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر نو رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر نو رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

 

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)حکومتِ پاکستان نے مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل اور آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں غیر حلقہ جاتی نمائندگی کے معاملے پر غور کے لیے نو رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ کمیٹی وفاقی حکومت، آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شق 2(xiii) کے تحت قائم کی گئی ہے۔

 

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وزیر و وزیر قانون میاں عبدالوحید، مسلم لیگ (ن) کے سینئر قانون دان سردار طاہر انور ایڈووکیٹ اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے لائر ونگ کے جنرل سیکرٹری راجہ اعجاز احمد خان ایڈووکیٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

 

وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری خبیب الرحمن، لیجسلیٹو ایڈوائزر حسن محمود اور کنسلٹنٹ ریسرچ تیمور زرین خان کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے، جو آئینی اور قانونی پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کریں گے۔

 

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، سردار ارباب ایڈووکیٹ اور سعد انصاری ایڈووکیٹ کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق راجہ امجد علی خان کا فی الوقت کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں جبکہ دیگر دو ارکان کا تعلق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مختلف دھڑوں سے ہے۔

 

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارتِ امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گی۔ کمیٹی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان اراکین کے معاملے پر غور کرے گی جو آزاد کشمیر کے حلقہ جات سے منتخب نہیں ہوتے، اور اس حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

 

کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ضرورت کے مطابق اجلاس منعقد کرے اور اپنی سفارشات مانیٹرنگ اینڈ امپلی مینٹیشن کمیٹی کو پیش کرے تاکہ طے شدہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

 

سیاسی اور آئینی حلقوں میں نو رکنی کمیٹی کے قیام کو ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق دیرینہ مسئلے کے حل اور تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

Comments are closed.