ہائی کورٹ آزاد کشمیر نے روزنامہ جموں و کشمیر کے چیف ایڈیٹر کی رٹ درخواست مسترد کر دی
مظفرآباد (نمائندہ خصوصی)ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے روزنامہ جموں و کشمیر کے چیف ایڈیٹر عامر محبوب کی جانب سے اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ سے متعلق دائر کردہ رٹ پٹیشن نمبر 1478/2024 کو غیر مؤثر اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس سردار محمد اعجاز خان اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل معزز دو رکنی بنچ نے سنایا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے قائم کی گئی
انکوائری کمیٹی مکمل طور پر آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بطور چیئرمین انکوائری کمیٹی مقرر کیے جانے کے اہل ہیں کیونکہ انہیں عدالتی نوعیت کے اختیارات اور وسیع عدالتی تجربہ حاصل ہے۔
عدالت کے روبرو درخواست گزار عامر محبوب، جو پیشہ ورانہ طور پر ایک صحافی اور روزنامہ جموں و کشمیر کے چیف ایڈیٹر ہیں، نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسٹیٹ سبجیکٹ ایکٹ 1980 اور اس کے قواعد کے تحت مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا اور نوٹس حکومت کے بجائے کمشنر ری ہیبلیٹیشن کی جانب سے جاری کیے گئے، جو قانوناً غلط ہے۔
تاہم عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے 29 فروری 2024 کو انکوائری کمیٹی کے قیام کے بعد کمشنر ری ہیبلیٹیشن کے ذریعے جاری کیے گئے نوٹسز قانون کے مطابق ہیں اور ان میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کے اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے پیش کی گئی الاٹمنٹ آرڈر کی فوٹو کاپی جعلی ثابت ہو چکی ہے، جسے ڈپٹی کمشنر ری ہیبلیٹیشن نے اپنی رپورٹ میں مشکوک قرار دیا تھاجبکہ وزارتِ امورِ کشمیر نے بھی اس سرٹیفکیٹ کی تصدیق سے انکار کیا۔
درخواست گزار نے اس رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا۔عدالت نے رٹ درخواست کو انکوائری کارروائی کو روکنے کی کوشش اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، تاہم انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر درخواست گزار کو مکمل حقِ سماعت فراہم کرتے ہوئے کارروائی مکمل کرے۔
قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین پر عملدرآمد، جعلی دستاویزات کے خلاف کارروائی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.