عمران انصاری کابہیمانہ قتل ناقابل برداشت، مجرموں کو انجام تک پہنچایا جائے گا، سردار عبد القیوم نیازی
ڈڈیال(کشمیر ایکسپریس نیوز)صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے سینیئر نائب صدر پی ٹی آئی میرپور طیب انصاری کے بیٹے عمران انصاری کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور انصاف کے حصول کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔نمازجنازہ میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی
اس موقع پر چیف آرگنائزر پی ٹی آئی چوہدری حمید پوٹھی، سینیئر نائب صدر چوہدری ظفر انور، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار جمیل صادق، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری عارف، ڈویژنل صدر راجہ آفتاب اکرم، جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی میرپور ڈویژن غلام محمد ربانی، ضلعی صدر سائیں ذوالفقار، افتخار مرزا، سردار غفارت، اظہر چوہدری، احسان الحق، راجہ کامران، قاضی ارشد، جبار منہاس سمیت پی ٹی آئی کی مرکزی، ڈویژنل اور ضلعی قیادت اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
نمازِ جنازہ کے بعد خطاب کرتے ہوئے سردار عبد القیوم نیازی نے عمران انصاری کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے پر حملہ ہے۔ ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور پی ٹی آئی اس کیس میں انصاف کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ سردار عبد القیوم نیازی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور قتل کے تمام محرکات کو بے نقاب کیا جائے۔
سردار عبد القیوم نیازی نے پولیس کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس کیس میں ذرا سی بھی غفلت یا کمزوری برتی گئی تو پی ٹی آئی خاموش نہیں رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کا قیام حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر قاتل قانون کی گرفت سے بچ نکلے تو یہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہوگا۔ عمران انصاری کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور انصاف ہر صورت ملے گا۔
آخر میں سردار عبد القیوم نیازی نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

Comments are closed.