یونیورسٹی آف حویلی کی جگہ کے خلاف سٹے کی درخواست خارج

یونیورسٹی آف حویلی کی جگہ کے خلاف سٹے کی درخواست خارج، عدالت کا دوٹوک فیصلہ: عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

 

مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے یونیورسٹی آف حویلی کے قیام کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ تعلیم اور عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ یونیورسٹی کا قیام ایک میگا عوامی فلاحی منصوبہ ہے اور کسی محدود طبقے یا سیاسی مفادات کو اس قومی تعلیمی منصوبے پر حاوی نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

 

عدالت عالیہ نے اپنے سخت ریمارکس میں کہا کہ تعلیم آئینی حق ہے اور عبوری آئین میں درج شخصی تحفظ، مساوات اور تعلیمی فروغ سے متعلق اصولِ پالیسی اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ایسے منصوبے ہر صورت آگے بڑھیں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ چند افراد یا گروہوں کے انفرادی مفادات کو وسیع تر عوامی مفاد کے سامنے کوئی حیثیت حاصل نہیں۔

 

ہائی کورٹ نے بطور رِٹ کورٹ یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دے سکتی جو عوامی فلاح کے راستے میں رکاوٹ بنے۔

 

  1. فیصلے میں کہا گیا کہ یونیورسٹی جیسے منصوبے پورے معاشرے کی فلاح و بہبود، نوجوانوں کے مستقبل اور خطے کی ترقی سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش کو قانون کے مطابق مسترد کیا جائے گا۔

 

عدالتی فیصلے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ یونیورسٹی آف حویلی کے خلاف مہم دراصل عوامی مفاد کے خلاف ہے اور عدالت نے ایسے تمام ہتھکنڈوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ تعلیم کے چراغ بجھانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی

 

عوامی اور تعلیمی حلقوں نے اس فیصلے کو تاریخی اور تعلیم دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف حویلی بلکہ پورے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے اور اب کسی کو اس منصوبے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Comments are closed.