ایکشن کمیٹی کا حکومت سے مذاکرات کے بائیکاٹ کا دوبارہ اعلان

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا حکومت سے مذاکرات کے بائیکاٹ کا دوبارہ اعلان، قاتلوں کی گرفتاری تک کوئی بات نہیں ہوگی،شوکت میر

 

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ایکشن کمیٹی کے ممبر شوکت میر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بائیکاٹ کا دوبارہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک 29 ستمبر کے سانحہ میں ملوث قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور ذمہ داران کے خلاف شفاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے

 

شوکت میر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایکشن کمیٹی کا بنیادی مطالبہ 12 مہاجر سیٹوں، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور عوامی حقوق کی بحالی سے متعلق ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومتی سرپرستی میں امن مارچ پر گولیاں برسائی گئیں، جس میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیامگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک ان قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ سرِ عام گھوم رہے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ریاست میں دوہرا معیار نافذ ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک جماعت قاتلوں کو پناہ دے رہی ہے جبکہ غریب اور بے بس عوام پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور قاتلوں کو عزت دی جاتی ہے، یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

 

شوکت میر نے کہا کہ یہ طے ہوا تھا کہ مہاجر ایم ایل ایز صرف قانون ساز اسمبلی کے رکن رہیں گے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں تھا، تاہم ایک مہاجر ایم ایل اے کو چیئرمین بنا کر اضافی تنخواہ، سرکاری گاڑیاں اور ٹی اے ڈی اے دیے گئے جس پر ایکشن کمیٹی کو شدید اعتراض ہے اور اسے اشرافیہ کو نوازنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

 

ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے شوکت میر نے کہا کہ یہ پاکستان کی حکومت کا اجراء کردہ منصوبہ ہے جس پر وہ وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں تاہم آزاد کشمیر کی حکومت کا اس میں کوئی مؤثر کردار نہیں۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ ہیلتھ کارڈ سہ پہر 4 بجے کے بعد مؤثر نہیں رہتا دل کے مریضوں کو صرف 4 لاکھ روپے تک ادائیگی جبکہ کینسر کے مریضوں کو بھی مخصوص رقم مختص کی گئی جس پر ایکشن کمیٹی کو شدید تحفظات ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ معاوضہ جات کے حوالے سے معاملات زیرِ بحث آئے ہیں تاہم ابھی بھی کئی امور حل طلب ہیں جبکہ بجلی کے مسئلے پر اگرچہ جزوی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اقساط کے حوالے سے مسائل بدستور موجود ہیں۔

 

شوکت میر نے مطالبہ کیا کہ 29 ستمبر کے سانحہ میں ملوث تمام قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور بعد ازاں پولیس افسران کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان کے خلاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، ایکشن کمیٹی نہ صرف مذاکرات کا بائیکاٹ جاری رکھے گی بلکہ عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا۔

 

Comments are closed.