حقوق تحریک اور ریاست ایک دوسرے کے مدِمقابل نہیں،رفیق نئیر
لاہور (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیر اطلاعات، اوقاف و مذہبی امور آزاد کشمیر چوہدری محمد رفیق نیئر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ابھرنے والی حقوق تحریک عوامی مسائل، سیاسی خلا اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے تناظر میں ایک فطری اور آئینی ردِعمل تھی، جسے حکومت نے ہمیشہ تحمل، برداشت اور ذمہ داری کے ساتھ ڈیل کیا۔
وہ لاہور میں عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام آزاد کشمیر میں حقوق تحریک کے حوالے سے منعقدہ مباحثے سے خطاب کر رہے تھے۔مباحثے کی نظامت آزادکشمیر کے معروف صحافی اور کیپٹل جرنلسٹس فورم کے صدر طارق نقاش نے کی
جبکہ دیگر مقررین میں جموں کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر راجہ امجد علی خان اور سیاسی و سماجی تجزیہ کار نائلہ الطاف کیانی شامل تھے۔
وزیر اطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ حقوق کا مطالبہ ہر مہذب معاشرے میں عوام کا بنیادی حق ہے اور آزاد کشمیر کے عوام نے مہنگائی، بجلی و آٹے کی قیمتوں، روزگار کے مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے مسائل پر آواز بلند کی۔
حکومت ان مسائل کی وجوہات اور زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہے۔وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت آزاد کشمیر نے احتجاج کو جمہوری حق تسلیم کرتے ہوئے تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور متعدد مواقع پر مذاکرات، کمیٹیوں کے قیام اور عملی اقدامات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ حقوق تحریک کے پس منظر میں ایک اہم عنصر سیاسی خلا تھا، جس کے باعث غیر جماعتی پلیٹ فارمز سامنے آئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کردار اسی خلا کا فطری نتیجہ تھا، تاہم ریاست میں پائیدار حل صرف منتخب اور آئینی ادارے ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
چوہدری محمد رفیق نئیرنے کہا کہ حکومت نے سبسڈی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا، آٹے اور بجلی کے نرخوں میں توازن قائم کیا، کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ حقوق تحریک اور ریاست ایک دوسرے کے مدِمقابل نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو پہلو ہیں، مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ مکالمہ اور اصلاح ہے۔ حکومت آزاد کشمیر عوامی حقوق کے تحفظ، سیاسی استحکام اور تحریک آزادی کشمیر کے مؤقف کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
