گورنر کامران ٹیسوری کا سانحہ ترلائی امام بارگاہ کا دورہ، لواحقین سے اظہارِ یکجہتی، فوری امداد کا اعلان
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سانحہ ترلائی امام بارگاہ کے شہداء کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد اور ہر ممکن تعاون یقینی بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترلائی میں سانحہ کے مقام کے دورے کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
گورنر سندھ نے جوائنٹ ایڈیٹر کشمیر ایکسپریس رازق بھٹی کے ہمراہ سانحہ ترلائی امام بارگاہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قبروں پر حاضری دی پھولوں کی چادر چڑھائی اور امام بارگاہ میں علامہ راجہ بشارت حسین امامی، ذوالقرنین نقوی و دیگر علماء کرام اور لواحقین کے ہمراہ دعاۓ مغفرت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کامران ٹیسوری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور صدرِ پاکستان کی ہدایات پر متاثرہ خاندانوں کی فوری داد رسی کی جا رہی ہے اور شہداء کے اہل خانہ کے لیے فوری ریلیف پیکج، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
گورنر سندھ نے خطاب کے دوران بھارت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، مگر اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ گورنر کامران ٹیسوری نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کے جارحانہ اور منفی رویے کا نوٹس لے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر کی ہدایات پر اپر پنجاب، راولپنڈی اور اسلام آباد کے عہدیداران نے گورنر سندھ کا استقبال کیا۔ استقبال کرنے والوں میں سینیٹر و نائب صدر اپر پنجاب راجہ آفتاب، نائب صدر سید منصور، خزانچی ذیشان اعوان، سٹی صدر راولپنڈی سردار ریاست اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔
گورنر سندھ نے شہید عون شیرازی کے والد اور بھائیوں سے خصوصی ملاقات بھی کی، جہاں انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان اور صدرِ پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
اس موقع پر جوائنٹ ایڈیٹر کشمیر ایکسپریس رازق بھٹی نے گورنر سندھ کو ایم کیو ایم کے مقامی عہدیداران سے متعارف کرایا اور علامہ راجہ بشارت حسین امامی سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقات کا اہتمام کیا۔
