صدارتی انتخاب کانیاتنازع،حکومت آئین کویرغمال بنارہی ہے؟

صدارتی انتخاب کا نیا تنازع،نوٹیفیکیشن کی تاخیر، آئینی تقاضے متاثر،حکومت آئین کو یرغمال بنا رہی ہے؟

 

اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس رپورٹ)آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی انتخاب کا معاملہ اب محض انتظامی تاخیر نہیں بلکہ کھلے آئینی انحراف کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔ صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد عہدہ خالی ہونے کا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنا ایک ایسا قدم بن چکا ہے جس نے پورے انتخابی عمل کو روک دیا ہے۔

 

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن واضح کر چکا ہے کہ نوٹیفیکیشن کے بغیر انتخابی شیڈول جاری نہیں ہو سکتا، جبکہ آئینی تقاضا یہ ہے کہ نوٹیفیکیشن کے 30 دن کے اندر نیا صدر منتخب کیا جائے۔

 

آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے تحت صدر ریاست کا آئینی سربراہ ہے اور عہدہ خالی ہوتے ہی انتخابی عمل شروع کرنا ریاستی تسلسل اور آئینی نظم کے تحفظ کے لیے لازم ہے۔ مگر نوٹیفیکیشن روک کر انتخابی عمل کو معطل رکھنا اس تاثر کو مضبوط کر رہا ہے کہ حکومت آئین کی روح کے بجائے سیاسی فائدے کو ترجیح دے رہی ہے۔

 

آئینی ماہرین کے مطابق عہدہ خالی ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا محض ایک رسمی کارروائی ہے جس میں تاخیر کی کوئی ٹھوس قانونی گنجائش موجود نہیں۔ اس کے باوجود تاخیر کا مطلب یہی لیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کو دانستہ طور پر سست کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی جوڑ توڑ مکمل کیا جا سکے، اتحادیوں کو لائن پر لایا جا سکے اور اقتدار کے اندرونی توازن کو اپنے حق میں ڈھالا جا سکے۔

 

اپوزیشن اس صورتحال کو کھلی آئین شکنی قرار دے رہی ہے اور خبردار کر رہی ہے کہ مقررہ مدت کے اندر انتخاب نہ ہونا ریاستی آئین کی صریح خلاف ورزی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تعطل برقرار رہا تو آئینی خلا، عدالتی مداخلت، ادارہ جاتی تصادم اور سیاسی عدم استحکام ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

 

حکومت کی خاموشی اور تاخیری حربے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کر رہے ہیں کہ کیا آئین صرف کمزوروں کے لیے ہے اور طاقتور سیاسی مفادات کے سامنے بے معنی ہو چکا ہے؟ آئینی عہدے کو خالی چھوڑ کر انتخابی عمل کو روک دینا جمہوری اقدار کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

 

حکومت کا غیر واضح رویہ عوامی اعتماد کو مزید مجروح کر رہا ہے۔ آئینی عہدوں پر تقرری میں تاخیر نہ صرف جمہوری عمل کو کمزور کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ آئین پر عمل درآمد سیاسی ضرورت کے تابع ہے۔

 

اب سوال یہ نہیں رہا کہ انتخاب کب ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ آیا آئین کی پاسداری ہوگی بھی یا نہیں۔

اب معاملہ محض انتخابی شیڈول کا نہیں بلکہ آئین کی بالادستی کا ہے۔ اگر فوری نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا گیا تو یہ تاثر ناقابل تردید ہو جائے گا کہ آئینی عمل کو دانستہ طور پر یرغمال بنایا جا رہا ہے اور ریاستی نظام کو سیاسی مفادات کے تابع کیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.