مقبوضہ کشمیر،تین ہزار سے زائد کشمیری نوجوان بھارتی جیلوں میں قید
سری نگر(کشمیر ایکسپریس نیوز)دنیا بھر میں خاندانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے ہاتھوں کشمیری خاندانوں کی کسمپرسی اور مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے
گزشتہ 78 برسوں میں لاکھوں ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں اور خواتین کی بے حرمتی بھارتی ریاستی دہشت گردی کا حصہ رہی ہیں۔ 1990 سے اب تک 8 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو دورانِ حراست یا جعلی مقابلوں میں لاپتہ کیا گیا ہے۔
ان گمشدہ افراد کے خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اکثر کیسز میں خاندان کا واحد کفیل نشانہ بنا، جس کے باعث یہ خاندان شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری، جن میں خواتین رہنما آسیہ اندراپی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی شامل ہیں، تہاڑ جیل اور دیگر بھارتی جیلوں میں غیر قانونی قید کاٹ رہے ہیں۔ ان رہنماں کو AFSPA، PSA اور UAPA جیسے کالے قوانین کے تحت صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
حریت کانفرنس کا موقف:کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے اپنے بیان میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔بھارت کشمیر میں “اجتماعی سزا” (Collective Punishment) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی آواز کو دبایا جا سکے۔
