قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بڑے عوامی جلسے کے ذریعے اپنی انتخابی مہم کا بھرپور آغاز کرتے ہوئے جہاں میاں محمد نواز شریف نے کارکنوں اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور متعدد سیاسی و ترقیاتی وعدے کیے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں نے کہا کہ آج بہت عرصے بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے، بڑے عرصے بعد آپ کے پاس آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مظفرآباد کے عوام سے بے حد محبت کرتے ہیں اور آزاد کشمیر ان کا دوسرا گھر ہے۔
قائد مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ جو وعدہ کرتا ہوں، اسے پورا کرتا ہوں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وہ وزیراعظم نہ بھی بن سکے تو ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے تاکہ دیکھ سکیں کہ انتخابی منشور پر عملدرآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔
نوازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مریم نواز بھرپور محنت کر رہی ہیں اور وہ عوام کو مختلف ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کریں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اپنی سابقہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی حکومت برقرار رہتی تو ملک بہت آگے نکل چکا ہوتا، لیکن ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے نہ صرف ترقی کا سفر روک دیا بلکہ “پاکستان کو تباہ و برباد کر دیا، اگر دوبارہ موقع ملا توہم آئیں گے تو ساری کسریں نکال دیں گے۔”
قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انتخابات میں کامیابی کس کے حصے میں آئے گی، تاہم ان کی خواہش ہے کہ مظفرآباد ترقی کے میدان میں تمام شہروں سے آگے نکل جائے۔
خطاب کے دوران نوازشریف نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں، آپ نے نواز شریف کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنانا ہے، مذاق کر رہا ہوں۔ اس جملے پر جلسہ گاہ میں قہقہے اور تالیاں گونج اٹھیں۔
