(کشمیر ایکسپریس نیوز)یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی، مشعال اور بیٹی کے نام پیغام نے دل دہلا دیے،
مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا تلخ فیصلہ کشمیر ایکسپریس ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق
تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کے مبینہ 25 صفحات پر مشتمل بیان حلفی کے بعض حصے سامنے آگئےجن میں اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام پیغامات نے قید و تنہائی کے دوران ان کے جذباتی کرب کو نمایاں کردیا۔
امریکہ میں مقیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما راجہ مظفر کے مطابق یاسین ملک نے جموں کی ٹاڈا/پوٹا عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے سلسلے میں یہ بیان حلفی تیار کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنی والدہ، اہلیہ اور بیٹی سے متعلق اپنے احساسات کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق یاسین ملک گزشتہ آٹھ برس سے اپنی اہلیہ کی آواز سننے اور ان سے فون یا ویڈیو کال پر بات کرنے سے محروم ہیں۔ انہوں نے مشعال ملک کو اپنی زندگی کے مسلسل غیر یقینی حالات سے آزاد کرنے کے لیے نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا تلخ فیصلہ کرنے کا ذکر بھی کیا ہے۔
بیان حلفی میں بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام پیغام بھی انتہائی دردناک ہے۔ یاسین ملک کے مطابق ڈیتھ سیل کی تنہائی میں ان کے پاس بیٹی کی صرف ایک تصویر ہے، جس کے ذریعے وہ اسے اپنے قریب محسوس کرتے اور اس کے روشن مستقبل کے لیے دعا کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی بیٹی کو دادی سے مسلسل رابطے میں رہنے اور روزانہ فون کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، تاکہ مشکل وقت میں بوڑھی دادی کو اپنی پوتی کی محبت اور سہارا ملتا رہے۔
یاسین ملک نے مبینہ طور پر اپنے بیان کو رحم کی اپیل کے بجائے اپنے ضمیر کا آخری بیان قرار دیا ہے۔ بیان کے یہ حصے برسوں کی قید، اپنوں سے دوری اور ایک شوہر، باپ اور بیٹے کے گہرے جذباتی کرب کی عکاسی کرتے ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
