ریا ست گیرشٹر ڈاؤن ،پہیہ جام ہڑتال جاری،1شہید،متعدد زخمی، ایکشن کمیٹی کاانٹری پوائنٹس کی جانب مارچ کا اعلان
مظفرآباد،میرپور،باغ،کوٹلی،نیلم ،بھمبر،ٰحویلی،دھیرکوٹ ،پلندری،راولاکوٹ،ہٹیاں بالا (نمائندگان کشمیر ایکسپریس ) جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر بھر میں ریاست گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
دارالحکومت مظفرآباد سمیت تینوں ڈویژنز—پونچھ، میرپور اور مظفرآباد—کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ بازار، دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔احتجاجی مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اعلان کیا کہ آج بڑے پیمانے پر انٹری پوائنٹس کی طرف مارچ کیا جائے گا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک تحریک جاری رکھیں گے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق امن و امان قائم رکھنے کے لیے ایف سی، رینجرز اور پولیس کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ادھر حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے گزشتہ شب سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر رکھی ہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب مظفر آباد میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب مسلم کانفرنس اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن آمنے سامنے آ گئے جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں1جاں بحق ہوو گیا جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق تصادم اس وقت شروع ہوا جب دونوں گروپ اپنے اپنے موقف کے حق میں ریلیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
اچانک نعرے بازی کشیدگی میں بدل گئی اور نوبت فائرنگ تک جا پہنچی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق مظفرآباد سمیت مختلف اضلاع میں احتجاج کے دوران نعرے بازی اور پتھراؤ ہوا جس کے بعد صورتحال شدت اختیار کر گئی ۔
انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے ایف سی، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔مظفرآباد میں نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شوکت نواز میر نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام کی قربانیاں تحریک آزادی کا سرمایہ ہیں اور انہی قربانیوں کی بدولت یہ تحریک زندہ ہے۔شوکت نواز میر نے ریلی کے دوران فائرنگ سے شہید ہونے والے کارکن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاآج ہم اپنے ایک بہادر ساتھی کو کھو بیٹھے ہیں، لیکن اس کا خون ہماری تحریک کو مزید توانائی دے گیا ہے۔
شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، یہ قربانیاں کشمیری عوام کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہیں۔”انہوں نے کہا کہ حکومت نے طاقت کے زور پر عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی، مگر کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ “ہماری تحریک پرامن ہے، مگر ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہمارا حق ہے۔”

Comments are closed.