شہداءجموں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں ہونگی،چیف جسٹس

شہداءجموں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں ہونگی،چیف جسٹس

میرپور (کشمیر ایکسپریس نیوز)چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر راجہ سعید اکرم خان اور سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر)شیر افگن ہلال امتیاز(ملٹری)نے کہا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے عظیم جانی قربانیاں دے کر اس وطن کو آزاد کروایا،ہم سب شہداء کے وارث ہیں اور وہ ہمارے قومی ہیروز ہیں،

 

شہداء جموں نے محبت پاکستان میں ایک ہی دن میں اڑھائی لاکھ سے زائد شہادتیں دے کر جو تاریخ رقم کی ہے وہ ہم سب پر ایسا قرض ہے جس کو ہم کبھی ادا نہ کرسکیں گے،

 

شہداء کی عظمتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔شہداء کی قربانیوں کے باعث مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بنے گی۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء جموں کے موقع پر سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر)شیر افگن خان، آرمی پبلک سکول کلری اور سول سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے شہداء کے ایصال ثواب اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے کلری اکبر آباد کے مقام پر بہت بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

تقریب میں آزاد کشمیر بھر سے سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات،اعلی عسکری حاضر و ریٹائرڈ قیادت،سول سوسائٹی،انتظامیہ اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور شہداء جموں و کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا

 

جبکہ تقریب سے پریذیڈنٹ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی میجرجنرل (ر) جاوید اسلم طاہر،سابق وزیرحکومت سردارفاروق سکندر، سابق وزیرمحترمہ فرزانہ یعقوب، سابق وائس چانسلرراجہ حبیب الرحمن اور سابق صدر چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری فیصل منظور نے خطاب کیا۔

 

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سابق کنٹرولرریڈیوپاکستان محمدشکیل اورپرنسپل محترمہ صباء صابرنے سرانجام دیے۔جی او سی جہلم میجر جنرل توقیر عباس اور چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر راجہ سعید اکرم خان نے یادگار پر پھول چڑھائے۔

 

تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر راجہ سعید اکرم خان نے حکومت آزاد کشمیر سے کہا کہ وہ ہر ضلع کے شہداء کی ضلع کے کالج میں یادگار قائم کریں تاکہ نئی نسل کو قومی ہیروز کے کارہائے نمایاں سے آگاہی حاصل ہوسکے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے عظیم قربانیاں دے کر اس خطہ کو آزاد کروایا، شہداء جموں کی قربانیوں کا ہم پر وہ قرض ہے جو کبھی بھی ہم اتار نہیں سکیں گے جنھوں نے پاکستان کی محبت میں عظیم جانی قربانیاں دیں ان عظیم سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جنرل شیر افگن نے شہداء کی یادگار تعمیر کروا کر اہم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

 

انھوں نے کلری میں عظیم تعلیمی ادارہ قائم کرکے علی گڑھ کی بنیاد رکھ دی جہاں سے عظیم لوگ پیدا ہونگے جو ہمارا قومی ورثہ ثابت ہونگے،

 

آج یوم شہداء جموں کے موقع پر ہم سب اپنے عظیم سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں جن کا رتبہ اور مرتبہ اللہ تعالی نے قران مجید میں بیان کردیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور انہیں اللہ کی طر ف سے رزق بھی دیا جاتا ہے۔اس حوالے سے شہداء کا مقام بہت بلند ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کا ماٹو ہی شہادت میری آرزو ہے۔بنیان مرصوص میں ہماری مسلح افواج نے ثابت کردیا ہے کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کے لئے سب سے بڑی ضرورت نوجوانوں کی تعمیر سازی کرنے کی ہے اور انہیں بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہیں وہی قومیں اپنی آزادی کی حفاظت کر سکتی ہیں جن میں اپنی آزادی کا شعور ہو،

 

انہوں نے کہا کہ جموں کے شہدا کے آنسو اور دکھ آنکھوں میں سموئے ہوئے ہیں بنیان مرصوص میں جس طرح ان آنسوؤں کا ازالہ کیا گیااگر مزید ضرورت پڑی تو مسلح افواج پاکستان اس سے بھی بڑھ کر اپنے دشمن بھارت کے اس سے زیادہ بھی آنسو نکالے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ایک ایسی انمٹ حقیقت ہے جو تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس آزادی کی قیمت و قدر مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر اور غزہ کے لوگوں سے پوچھیں جو ظالم اور جابر فوج کے سائے تلے بڑے کرب اور ظلم میں زندگیاں بسر کررہے ہیں۔

 

انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا اور ہماری معیشت بھی کبھی مستحکم نہیں رہی لیکن پاکستان نے اپنے دفاع پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا آج اللہ تعالی کا کرم ہے پاکستان جنگی طیارے، دور جدید کی ٹیکنالوجی اور جنگی آلات بنا رہا ہے۔پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ہے اور ہماری مسلح افواج کا شمار بھی دنیا کی قابل فخر افواج میں ہوتا ہے۔

 

ہم سب شہداء کے وارث ہیں اور شہداء کی قربانیوں اور پاکستان کے باعث ہی ہم سب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔چیف جسٹس آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہاکہ آزاد کشمیر میں جوڈیشل کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے شرکت کرکے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ کو تقویت دی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کلری کی مٹی بڑی زرخیز مٹی ہے اور اس گاؤں کی 400 سال پرانی تاریخ ہے یہ بھی بہت اعزاز کی بات ہے کہ ایک ہی وقت میں بھمبر سے دو کور کمانڈر جنرل شیر افگن خان اور جنرل چوہدری اکرام الحق کا تعلق اسی ضلع سے تھا۔

سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیر افگن ہلال امتیاز (ملٹری) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب شہداء کے وارث ہیں ان شہداء کی وجہ سے آج ہمیں پُرفضا لمحات میسر ہیں،

 

آزاد کشمیر کی 78 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ آزاد کشمیر بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے ملکر شہداء کی یادگار پر حاضری دی اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا،06 نومبر 1947 کا دن تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے

 

جس دن اہلیان جموں کو عقیدت پاکستان کے جرم میں ڈوگرہ فوج نے بہانے کے ذریعے جموں پولیس لائن میں پاکستان بھیجنے کے لئے اکٹھا کیا اور پھر سانبہ نالہ میں جاکر اڑھائی لاکھ کشمیریوں کو شہید کردیا گیا اور ان کی نسل کشی کی گئی۔

 

قیام پاکستان کے بعد ریاست جموں و کشمیر کے 90 فیصد آبادی جو مسلمانوں پر مشتمل تھی نے اپنے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کے ساتھ کرلیا تھا مگر ڈوگرہ فورسز نے جموں میں مسلمانوں کی شہادتیں کی اس کے ساتھ ریاست کے دوسرے علاقوں میں مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے تاکہ وہ پاکستان کا نام نہ لے سکیں۔

 

ان حالات کو بھانپتے ہوئے پونچھ مظفرآباد اور میرپور کے لوگوں نے ڈوگرہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور بارہ مولا تک کا علاقے پر قبضہ کرلیا لیکن مجاہدین کی ریگولر فورسز نہ ہونے کے باعث ا س کا دفاع نہ کرسکے ا ن حالات میں افواج پاکستان کے پانچ برگیڈ، قبائلیوں اور کشمیریوں نے ملکر اس خطہ کو آزاد کروالیا۔

 

آزادی کے بعد حکومت پاکستان نے اس خطہ کو پاکستان میں شامل کرنے کے بجائے اس کو آزادی کے بیس کیمپ کے طور پر الگ حیثیت رکھی تاکہ ریاست جموں و کشمیر مکمل آزاد ہوکر پاکستان کا خوبصورت گلدستہ بن سکے۔

 

انہوں نے کہاکہ کشمیری افواج پاکستان کا حصہ ہیں ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ زندہ قومیں اپنی تاریخ نہیں بھولتی بلکہ وہ اپنی تاریخ کو محفوظ رکھتی ہیں شہداء ہماری آزادی کے ضامن ہیں ہم شہداء کی قربانیوں کو کیسے بھول سکتے ہیں،

 

انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر پونچھ سے شروع ہوئی اس لحاظ سے پاکستان آرمی میں آزاد کشمیر کے کئی جنرل،میجر جنرل اور اعلیٰ فوجی عہدوں پر تعینات ہیں جبکہ سب سے زیادہ بھمبر کے 11 کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔

 

انہوں نے کہاکہ بھمبر کو میجر راجہ محمد افضل خان اور فاتح بھمبر برگیڈیئر حبیب الرحمن نے آزاد کروانے میں اہم کارنامہ سر انجام دیا۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لئے عظیم قربانیاں دیں۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسی قوم کی عزت ہے جس کی فورسز مضبوط ہیں اللہ کا شکر ہے کہ ہم 2019 کو بھی اپنے دشمن کو 2025 جیسا ہی جواب دیا وہ اس کاذکر نہیں کرتا جب کوئی دشمن مضبوط فوج کا مقابلہ نہ کرسکے تو وہ آپ کی فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کرتا ہے تاکہ لوگ فوج سے دور ہوں فوج کی اصل طاقت عوام ہیں۔

 

انھوں نے کہاکہ بھارت سوشل میڈیا پر پاکستان،اسلام، پاک فوج،آئی ایس آئی کے خلاف منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کررہا ہے تاکہ عوام اور پاک فوج کے رشتوں کو کمزور کیا جاسکے ہم ان رشتوں کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے اور دشمن کا ہر معاذ پر ڈٹ کرمقابلہ کریں گے انھوں نے آزادکشمیر بھر سے آنے والے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔

Comments are closed.