میری موجودگی میں تقسیم کشمیرکاکوئی فارمولاممکن نہیں،انوار
ایوان نے مجھے جنم دیا، اس کے قتل کا سوچ بھی نہیں سکتا: وزیراعظم انوار الحق
مظفرآباد (سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے قانون ساز اسمبلی میں اپنے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمہ دار صرف ایک شخص قرار دیا جائے۔
اگر کوئی خرابی ہوئی ہے تو کیا میری کابینہ اس کی ذمہ دار نہیں؟انہوں نے کہا کہ وہ یہ خطاب اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ان کی باتیں ریکارڈ کا حصہ رہیں۔انوار الحق نے کہا کہ اسی ایوان نے انہیں وزیر اعظم بنایا اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اسی ایوان کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کریں۔ “آج میں یہاں سب کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ 15 فروری تک اسمبلی تحلیل کر دیں اور اگر وہ چاہتیں تو ایسا کر کے اپنے خلاف کسی بھی کارروائی سے بچ سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوری کابینہ کے مشکور ہیں جنہوں نے ان کی آزادی کے فیصلوں میں ساتھ دیا۔چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ایک موقع پر انہیں بکتر بند گاڑی میں لے جانے کی تجویز دی گئی مگر انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی کارکن ہیں اور عوام میں جانے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران اگر خدانخواستہ کوئی سانحہ ہو جاتا تو وہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔الحمدللہ آج میں یہاں سے سرخرو جا رہا ہوں وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ان کی موجودگی میں تقسیم کشمیر کا کوئی فارمولا قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے پر دستخط کر دیتے تو یہ ان کی سیاسی موت ہوتی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایوان ہی سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو للکارا اور اسے فتنہ ہندوستان قرار دیامگر ان نظریات کو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں نظریاتی بگاڑ سے تعبیر کیا گیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی سے ان کا ہمیشہ بہترین تعاون رہا ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ ان کی سختی کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچی۔چوہدری انوار الحق نے آزاد کشمیر کی عدلیہ، وکلا تنظیموں، صحافیوں اور دیگر اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیصل ممتاز راٹھور کا انتخاب ہو جاتا تو وہ اپنا ووٹ انہیں دیتے کیونکہ وہ پہلے بھی ان سے ووٹ لے چکے ہیں۔میری نیک تمنائیں فیصل ممتاز راٹھور کے ساتھ ہیں اور میری بلواسطہ حمایت انہیں حاصل ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے خلاف کسی بھی ممکنہ سازش یا جبر کی کوشش ہوئی تو وہ بھرپور مزاحمت کریں گے۔خطاب کے اختتام پر چوہدری انوار الحق اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ایوان سے باہر چلے گئے

Comments are closed.