قیوم نیازی کی سہیل آفریدی سے ملاقات،8فروری کی کال پرگفتگو

سہیل آفریدی سے ملاقات ،آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ، تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل، سردار عبد القیوم نیازی

 

پشاور (کشمیر ایکسپریس نیوز)صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے پشاور میں اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا جنید اکبر اور اپوزیشن لیڈر پنجاب معین قریشی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر بھر میں جاری سٹریٹ موومنٹ اور قائد پاکستان عمران خان کی 8 فروری کی کال پر تفصیلی گفتگو کی گئی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آزاد کشمیر میں جاری پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیازی کی قیادت میں عمران خان کی کال پر پورے آزاد کشمیر میں عوام کا سڑکوں پر نکلنا قابلِ تحسین اور جمہوری جدوجہد کی واضح مثال ہے۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سردار عبد القیوم نیازی نے کہا کہ آزاد کشمیر اپنے کپتان، سفیر اور محسن عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ عمران خان کی حکومت آزاد کشمیر کے لیے گیم چینجر منصوبے دینا چاہتی تھی مگر ایک منظم سازش کے تحت ان کی حکومت کو ڈی ریل کیا گیا اور رجیم چینج آپریشن کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان میں 17 نشستوں والوں کو 180 نشستوں والوں پر مسلط کیا گیا، اسی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

عوام اور پارٹی کی جانب سے جس قیادت کو مینڈیٹ ملا اسے چھین کر صرف 11 نشستوں والوں کے حوالے کر دیا گیاجس سے پورا نظام تباہ ہو کر رہ گیا۔

صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے کہا کہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کی مسلسل توہین کی گئی۔ پہلے حکومتیں ایکشن کمیٹی سے معاہدے کرتی ہیں اور پھر خود ہی ان سے منحرف ہو جاتی ہیں جس کا خمیازہ براہِ راست عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

سردار عبد القیوم نیازی نے واضح کیا کہ آج ایک بار پھر آزاد کشمیر میں عوامی تحریک سر اٹھا چکی ہے اور اب مزید دھوکے قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کو فوری طور پر یکسو کیا جائے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو تحریک مزید شدت اختیار کرے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔

Comments are closed.