عمران انصاری کی نمازجنازہ احتجاج میں تبدیل،عوام میں غم وغصہ
عمران انصاری کا بے رحمانہ قتل، نماز جنازہ احتجاج میں تبدیل، ڈڈیال میں غم و غصے کی لہر،عمران طیب انصاری کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کا مطالبہ
ڈڈیال(کشمیر ایکسپریس نیوز) گزشتہ روز بے دردی سے قتل کیے جانے والے نوجوان عمران طیب انصاری کی نمازِ جنازہ کچہری گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیازی، سابق وزیر حکومت اظہر صادق، ظفر انور، سابق ممبر کونسل حمید پوٹھی، سابق ضلع قاضی محفوظ احمد، غلام رسول عوامی، شوکت علی صدر کرنسی ایکسچینج میرپور، ضلعی و تحصیل انتظامیہ، وکلاء، صحافیوں، تاجروں سمیت سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کے دوران پورا ڈڈیال سوگوار تھا۔ آہیں، سسکیاں اور اشکبار آنکھیں ہر طرف نظر آئیں اور ہر زبان پر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت تھی۔ جنازہ کے بعد عمران طیب انصاری کو آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اس موقع پر عوامی حلقوں نے پُرزور مطالبہ کیا کہ اس بہیمانہ قتل میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور ڈڈیال میں امن و امان کی فضا بحال ہو۔
پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزم وقاص ارشد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ قتل کے محرکات اور پس منظر جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی کارروائی کے ذریعے تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے اور کسی بھی ذمہ دار کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کارروائی کریں گے تاکہ نہ صرف لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ علاقے میں پائیدار امن بھی قائم ہو۔
نمازِ جنازہ کے بعد خطاب کرتے ہوئے سردار عبد القیوم نیازی نے عمران انصاری کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے پر حملہ ہے۔ ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور پی ٹی آئی اس کیس میں انصاف کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ سردار عبد القیوم نیازی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور جرم کے تمام محرکات کو بے نقاب کیا جائے
–

Comments are closed.