کھوڑی چنہ کا زمینی رابطہ منقطع،30ہزارسے زائدافرادمحصور

کھوڑی چنہ اور گردونواح میں شدید انسانی بحران،سڑکیں بند، آٹا ناپید، مریض بے یار و مددگار ، 30 ہزار سے زائد افراد محصور

 

کھوڑی چنہ (خصوصی رپورٹ)آزاد کشمیر میں حالیہ شدید برف باری نے جہاں معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے وہیں کھوڑی چنہ اور اس سے ملحقہ درجنوں علاقوں میں صورتحال ایک خوفناک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی مشینری مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے

 

عوام علاقہ نے کشمیر ایکسپریس سے خصوصی گفتگو میں شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ نے محض علی سوجل تک سڑک صاف کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لی، جبکہ علی سوجل سے آگے 30 ہزار سے زائد آبادی گزشتہ سات دنوں سے برف میں قیدہو کر رہ گئی ہے اور کسی حکومتی نمائندے نے پلٹ کر پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی

 

سڑکوں کی بندش کے باعث کھوڑی چنہ شمالی، کھوڑی چنہ جنوبی، قینچی کوٹ، موہانڈ، نورکوٹ، مکڑالی، کہن دوناسہ، منگاڑی، نکر چورا باء، پڑکوٹ، پنیالی، داڑیکوٹ، کھیت چورا گلی اور ساونی ہل سمیت درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔

 

ان علاقوں میں آٹا مکمل طور پر ناپید ہو چکا ہے جبکہ دیگر اشیائے خورونوش بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں، جس کے باعث عوام فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق اس بدترین صورتحال میں خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

 

برف میں پھنسے علاقوں کی طالبات وفاق المدارس کے امتحانات میں شرکت سے محروم ہو چکی ہیں، جس سے ان کا قیمتی تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے، مگر حکومت کو شاید اس کی کوئی پروا نہیں۔

 

صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کے چیک اپ اور علاج میں شدید تاخیر شروع ہو چکی ہے، جو براہِ راست انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

 

عوام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مریض کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔

 

عوامی حلقوں نے شدید افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کسی مسیحا کی منتظر ہے مگر بدقسمتی سے علاقے کے منتخب نمائندے اس نازک وقت میں راولپنڈی میں موجود ہیں جبکہ کھوڑی چنہ اور ملحقہ علاقوں کے عوام برف، بھوک اور بے بسی کے عالم میں تڑپ رہے ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔

 

عوام نے وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل راٹھور، وزیر تعمیرات عامہ، سیکریٹری تعمیرات، ایکسین راولاکوٹ اور ایم ایل اے حلقہ تین کھائیگلہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر سڑکیں کھولی جائیں، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائی جائے۔

 

علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہو گی۔

Comments are closed.