اوورسیزکشمیریزکنونشن،حکومت کااحسن اقدام ہے،شاہ غلام قادر

اوورسیز کشمیریز کنونشن کا انعقاد حکومت آزادکشمیر کا اچھا اقدام ہے،شاہ غلام قادر

 

مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز کشمیریز کنونشن کا انعقاد حکومت آزادکشمیر کا اچھا اقدام ہے۔

 

اوورسیز کشمیریوں کے ساتھ مل کر ہم ریاست کی ترقی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اوورسیز کشمیری عام لوگ نہیں ملکی معیشت کا مضبوط ستون ہیں جو معیشیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

 

اوورسیز کشمیری ہارڈ ورکر اور دیانتدار لوگ ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ملک کے وقار کو بلند کیا۔ اوورسیز کشمیریوں کا دل ہمارے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید ہم آپ کو مواقع نہیں دے سکے۔ مگر یہ حکومت آزادکشمیر کا اچھا اقدام ہے کہ آپ کو یہاں اکٹھا کیا اور آپ کے مسائل سن رہے ہیں۔

 

کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ہندوستان کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مکر گیا ہے لیکن ریاست پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی رائے کا احترام کیا۔ ہندوستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے وعدے سے مکر گیا ہے لیکن پاکستان اپنے اس وعدے پر آج بھی قائم ہے۔

 

آزادکشمیر کی سیاست کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قومی ایشوز پر آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ دریائے جہلم کے اس پار اس کا فقدان ہے۔

 

ہم آزادکشمیر میں دشمنی کی نہیں بلکہ تعمیری اپوزیشن کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے مہاراجہ سے ہندوستان کے فیصلہ کو قبول نہیں کیا اور بغاوت کی جس کے نتیجہ میں مسئلہ پیدا ہوا۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا تھا لیکن مہاراجہ نے ہمارا حق چھینا اس لیے ہماری منزل الحاق پاکستان ہے۔

 

آزادکشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے لیکن مجھے شبہ ہے کہ کچھ لوگ یہاں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے یہاں عدم استحکام آئے۔ آزادکشمیر میں لوگ خود اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں۔

 

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لوگ قید ہیں اور اپنی مرضی سے حکومت نہیں منتخب کر سکتے۔ ہم اس ریاست کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ نظام حکومت ایک دن میں نہیں ملا نہ ہی اسکی آزادی کسی تحفہ میں ملی یے۔

 

اس کے پیچھے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، مجاہد اول سردار عبداالقیوم خان اور کے ایچ خورشید کی کاوشیں اور شہداء کی قربانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آزادکشمیر میں جمہوریت کی گاڑی کو اسی طرح رواں دواں رکھنا ہے۔ یہاں بہت احتجاج ہوئے اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی بات کی۔

 

میں نے کہا اسکا متبادل بھی دیں لیکن ہماری سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اسوقت مقبوضہ کشمیر میں 42 لاکھ ہندووں کو ریاست کو سٹیٹ سبجیکٹ دیایا گیا ہے جبکہ ہم اپنے 6 لاکھ مہاجرین کو حق نمائندگی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔

 

لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے یہاں کا ماحول خراب ہو۔ آزادکشمیر میں وقت پر انتخابات ہوتے ہیں اور کبھی جمہوریت میں رخنہ نہیں پڑا۔

 

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان سیاستدانوں نے کیا دیا ریاست کو تو میں انکو بتا دینا چاہتا ہوں کہ 1947 میں یہاں نہ یونیورسٹی تھی، نہ ڈگری کالج نہ میڈیکل کالج اور آج دیکھیں ریاست میں کتنے سٹیٹ آف دی آرٹ بڑے تعلیمی ادارے ہیں۔

 

مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں عمر عبداللہ فائلیں بھیجتے ہیں اور گورنر جنرل سے دستخط نہیں ہوتے ایک پولیس افسر کا وہ تبادلہ نہیں کر سکتے اور ہمارا وزیراعظم کتنا بااختیار ہے یہ ہم سب بہتر جانتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے 13 حلقہ انتخاب لائن آف کنٹرول پر واقع ہیں جہاں ہماری فوج کے جوان برف میں کھڑے ہو کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔ میں ان کو سلوٹ نہ کروں تو کس کو کروں۔

 

مجھے سہولت کار کہنے والے سن لیں مجھے ریاست اور پاکستان کا سہولت کار ہونے پر فخر ہے۔ وزیراعظم پاکستان ریاست کی بھرپور مالی مدد کر رہے ہیں میں انکا شکر یہ کیوں نہ ادا کروں۔

 

میں افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انکی قیادت میں افواج پاکستان ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے

 

 

 

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.