اوررسیزکشمیریوں کاتعلق مسئلہ کشمیرکیساتھ گہراہے،غلام صفی

اوررسیز کشمیریوں کا تعلق مسئلہ کشمیر کے ساتھ بہت گہرا ہے،غلام محمد صفی کنوینئر آل پارٹیز حریت کانفرنس

 

مظفر آباد( وقائغ نگار)کنوینئر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوررسیز کشمیریوں کا تعلق مسئلہ کشمیر کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات مطابق رائے شماری سے ہونا ہے۔

 

رائے شماری میں ریاست جموں کشمیر میں مقیم ہر مذہب کے لوگوں نے حصہ لینا ہے۔ کشمیریوں نے 1947 میں الحاق پاکستان کی جس منزل کا تعین کیا آج بھی وہ اسی فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

ہم آج سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کی منزل الحاق پاکستان ہے۔پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد میں کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اوورسیز کشمیریوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر آج تک حل کیوں نہیں ہو سکا۔ اوورسیز کشمیریوں کا کام بیرون ملک لابنگ کرنا اور مسئلہ کشمیر کے اصل حقائق بیرونی دنیا کو دیکھانے ہیں۔

 

اس مسئلہ میں بڑی رکاوٹ ہندوستان کی ہٹ دھرمی، اقوام متحدہ کی بے بسی، عالمی طاقتوں کی عدم دلچسپی، سوویت یونین کی ہندوستان کے حق میں ویٹو پاور کا استعمال ہے۔

 

معرکہ حق سے پہلے ہندوستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل تھی لیکن بنیان مرصوص کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اور اب دنیا مسئلہ کشمیر پر بات کرنا چاہتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیریوں کے لیے جینا محال کر رکھا ہے۔ میں آج آزاد کشمیر کے ان نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جو حق خودارادیت کی اس جدوجہد پر قربان ہو گئے۔

 

میں آج پوری حریت کانفرنس کی طرف سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو جہنم زار بنا رکھا ہے۔ جموں وکشمیر کو ایک خوبصورت قید کی وادی بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں اوورسیز کشمیری اپنا کردار زیادہ موثر طریقے سے ادا کر سکتے ہیں۔

 

ہمارے قائدین کو قید کر کے رکھا گیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا رہی ہے۔ ہندوستان دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ اب مقبوضہ کشمیر میں کوئی تحریک نہیں۔ لیکن ایسا ہندوستان پہلے بھی کر چکا ہے لیکن ہر مرتبہ کشمیری آٹھ کھڑا ہوتا ہے اور ہندوستان کو للکارتاہے کہ تم کشمیریوں سے انکی منزل نہیں چھین سکتے۔

 

میں آج یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیری حق خودارادیت سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہونگے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحد کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ہماری پوری توجہ اسی پر ہونی چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادکشمیر تعمیر وترقی کی ایک ماڈل سٹیٹ بن جائے۔ لیکن ہندوستان اگر مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر تارکول کے بجائے سونا چاندی اور جواہرات بھی بچھا دے پھر بھی ہم حق خودارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم کشمیر کے مسئلہ پر سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔

 

جس میں ہندوستان ایک غاصب کی حیثیت سے، پاکستان حق خودارادیت کے حامی کی حیثیت سے جبکہ کشمیری بطور بیسک فریق مذاکرات میں شرکت کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم کسی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کریں گے جس میں انڈیا کے سٹریٹیجنک پارٹنر ہوں۔ البتہ اگر چائینہ اور ترکیہ ثالثی کے لیے آتا ہے تو یہ ہمیں قبول ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.