مطلوبہ تعدادموجود،عدم اعتمادمیں دیرنہیں لگےگی،متحدہ اپوزیشن

اکثریت ختم، حکومت خطرے میں؟مطلوبہ تعداد موجود،عدم اعتماد میں دیرنہیں لگے گی،متحدہ اپوزیشن

 

مظفر آباد( وقائع نگار)آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن نے آزاد کشمیر میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ایوان کے اندر اپنی عددی اکثریت کھو چکی ہے اور جمہوری و آئینی تقاضوں سے انحراف کر رہی ہے۔

 

اپوزیشن رہنماؤں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے یا جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا

 

اور اگر کوئی قوت یا گروہ نظام کو سمیٹنے یا غیر آئینی اقدامات کے ذریعے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر اس کا راستہ روکیں گی۔

 

اپوزیشن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جماعتی مفادات کے بجائے ریاست آزاد جموں و کشمیر اور عوام کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے اور آئینی و جمہوری اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

 

بدھ کے روز دارالحکومت مظفرآباد کے مرکزی ایوانِ صحافت میں ایک پرہجوم اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر ، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق، سابق قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد، سابق سینئر وزیر کرنل (ر) وقار نور، ممبران اسمبلی سردار میر اکبر، اظہر صادق اور سردار عامر الطاف شامل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی، طرز حکمرانی اور پارلیمانی رویے پر شدید تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کیا۔

 

اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے اندر جواب دہی کے عمل سے مسلسل گریز کر رہی ہے، جو جمہوری روایات اور آئینی تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سپیکر اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس میں بزنس کی موجودگی کے باوجود حکومتی وزراء کی عدم موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت ایوان کے اندر جواب دہی سے فرار اختیار کر رہی ہے اور اپوزیشن کے سوالات کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔

 

قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے تفصیل سے بتایا کہ اپوزیشن نے آئینی طریقہ کار کے مطابق اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروائی تھی، جس کے بعد اجلاس بمشکل دو دن جاری رہ سکا۔

 

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان کے وقار اور جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کورم پورا کیا، جبکہ بزنس کی موجودگی کے باوجود اچانک سپیکر اسمبلی کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنے کا اقدام انتہائی غیر متوقع اور ناقابل فہم تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران صرف ایک وزیر موجود تھا، جبکہ دیگر وزراء بعد میں ایوان میں آئے لیکن کسی نے بھی اپوزیشن کے سوالات یا توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب نہیں دیا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی توجہ دلاؤ نوٹس اور قراردادوں کا مرحلہ باقی تھا کہ اجلاس کو اچانک ملتوی کر دیا گیا، جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی، جو آزاد کشمیر کی پارلیمانی جمہوری تاریخ کا ایک منفرد اور غیر معمولی واقعہ ہے۔

 

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر کا خطہ کسی بھی قسم کی افرا تفری، انتشار یا غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور اپوزیشن نے ہمیشہ سڑکوں کے بجائے ایوان کے اندر جمہوری انداز میں مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ایوان میں اپوزیشن کا سامنا کرنے سے گریز اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی عددی اکثریت کھو چکی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے انتہائی عجلت، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، اور جن افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے وہ خود استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو حکومت کی کمزور گورننس کا واضح ثبوت ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر لبریشن سیل جیسے حساس ادارے میں ماہرین کے بجائے سیاسی بنیادوں پر مشیران کی تقرری کی جا رہی ہے اور صوابدیدی عہدوں پر بندر بانٹ جاری ہے، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

 

شاہ غلام قادر نے کہا کہ حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تاہم اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پانچویں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ چونکہ عام انتخابات قریب ہیں، اس لیے اپوزیشن نہیں چاہتی کہ نظام کو مزید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے، تاہم حکومت کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔

 

انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے تھرڈ پارٹی ایکٹ کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود حکومت بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو کے تقرریاں کر رہی ہے، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کا برقرار رہنا ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے وقت یہ طے پایا تھا کہ اس کی حیثیت ایک عبوری یا نگران حکومت کی ہوگی، تاہم یہ حکومت اپنی روایتی سیاسی روش پر گامزن ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ چوہدری انوار الحق کی قیادت میں قائم حکومت میں شامل عناصر کی وجہ سے موجودہ مسائل نے جنم لیا، اور پیپلز پارٹی کی حکومت جس راستے پر چل رہی ہے، وہ نہ صرف خود ان کے لیے بلکہ ان کے ضامن بننے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین نے خود تسلیم کیا ہے کہ انہیں ایوان میں اکثریت حاصل نہیں، اور اگر صورتحال یہی رہی تو پانچواں وزیراعظم بھی آ سکتا ہے۔

 

انہوں نے حکومت کے طرز حکمرانی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نظام کے ساتھ کسی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسمبلی کی منظوری کے بغیر بجٹ میں تبدیلی آئینی طور پر ممکن نہیں۔

 

راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ انتقامی بنیادوں پر تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے، جو انتظامی ماحول کو خراب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری لطیف اکبر ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور ان سے غیر جمہوری طرز عمل کی توقع نہیں تھی، تاہم ان کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور ہونا خود حکومت کے طرز عمل کا عکاس ہے۔

 

سابق قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ عموماً اسمبلی میں اپوزیشن کورم کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن گزشتہ اجلاس میں اپوزیشن نے ایوان کے تقدس اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے خود کورم پورا کیا، جبکہ حکومت کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی بار بار تبدیلی سے نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور حکومت کے تین ماہ کے مختصر عرصے میں انتقامی کارروائیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں تحریک التواء کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے، جو انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات کو کسی صورت التواء کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے اپنے خطاب میں باجوڑ میں فتنہ الخوارج کی جانب سے مسلح افواج پاکستان پر ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے ہمیشہ کشمیری عوام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں دشمن قوتیں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہیں، اور ایسے وقت میں آزاد کشمیر کے اندر گورننس کی بہتری اور سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ نظام اسلاف اور اکابرین کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے اور اسے کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں بھی حقوق کے نام پر بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ پرامن انتقال اقتدار جمہوری عمل کا حسن ہے، تاہم مزید مہم جوئی کی کوئی گنجائش نہیں اور تمام سیاسی قوتوں کو مل کر جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورم پورا ہونے کے باوجود اجلاس کا ملتوی ہونا آزاد کشمیر کی 77 سالہ پارلیمانی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔

 

ممبر اسمبلی سردار میر اکبر نے کہا کہ باغ کے علاقے میں انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں جو ناقابل برداشت ہو چکی ہیں، اور حکومت کو ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی عدم استحکام کا باعث بنے۔

 

اپوزیشن رہنماؤں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری نظام کے تحفظ، ریاستی مفادات کے دفاع اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.