وفاقی فیصلوں کی توسیع: آزاد کشمیر میں کفایت شعاری پالیسی نافذ،ازاد کابینہ کا اجلاس،وزراءکا دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50فی صدکٹوتی کا فیصلہ،دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے،سکول 31 مارچ تک مکمل بند رہیں گے
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)آزاد جموں و کشمیر کابینہ نے کفایت شعاری کے تحت اہم فیصلے کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں 50 فیصد کمی، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کی آئندہ دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے، اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی، گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے تین لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے افسران کی چار دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے دینے، سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کمی، غیرملکی دوروں پر پابندی اور ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھولنے سمیت متعدد اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سرکاری محکموں میں فرنیچر، ایئرکنڈیشنر اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی ہو گی اور کسی بھی نئی خریداری سے قبل کابینہ کی منظوری لازمی ہو گی۔
یہ فیصلے وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس کے آغاز میں افواج پاکستان کے شہداء، ایران کے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور تحریک آزادی کشمیر کے شہداء کے بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔
کابینہ نے حالیہ بین الاقوامی صورتحال اور معاشی ناہمواریوں کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے انہیں سراہا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں میں ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے اور تمام سرکاری اداروں میں ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی۔
کابینہ فیصلے کے مطابق سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر ون ڈش کی پابندی ہو گی جبکہ کانفرنسز اور اجلاس ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ سرکاری و نجی اداروں میں ایندھن کی بچت کے لیے اقدامات کرتے ہوئے انتہائی ضروری شعبوں کے علاوہ 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلے رہیں گے جبکہ ایک اضافی چھٹی دی جائے گی، تاہم اس فیصلے کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہو گا۔
کابینہ نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ کیا کہ تمام سکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کے لیے بند کر دیا جائے گا اور سکول 31 مارچ تک مکمل بند رہیں گے، جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں دستیاب وسائل کے مطابق آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔
اجلاس میں محکمہ صحت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے انفراسٹرکچر کی خریداری کے لیے دو ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ ریسکیو 1122 کے فیلڈ سٹاف اور فیلڈ افسران کے لیے رسک الاؤنس کی منظوری بھی دے دی گئی۔
کابینہ اجلاس میں نیم مسلح افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیر اطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے پیش کی۔
اجلاس میں ایران پر بیرونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کی کفایت شعاری پالیسی کو سراہا گیا اور تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
