مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز) آزاد کشمیر حکومت اورجموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کے عوامی احتجاج کے سلسلے میں اپنا اپنا منصوبہ واضح کر دیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا ہے کہ اگر 9 جون کو احتجاج اور لانگ مارچ ہوتا ہے تو حکومت طاقت یا فورس کے استعمال سے گریز کرے گی۔ احتجاج اور لانگ مارچ کے شرکا کو ٹھنڈا پانی پلائیں گے۔
ادھر عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر بھر میں 9 جون احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، قابل ذکر امر یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پاکستان میں مقیم مہاجرین کی بارہ نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نزیر کشمیری نے راولاکوٹ میں احتجاجی شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا کہ میرپور اور بھمبر سے قافلے 9 جون کو روانہ ہوں گے اور رات کوٹلی میں قیام کریں گے۔
بعد ازاں کوٹلی، میرپور، بھمبر، پونچھ اور حویلی سمیت مختلف علاقوں کے قافلے راولاکوٹ میں جمع ہوں گے، جہاں سے مشترکہ طور پر اگلے مرحلے کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور کارکن 9 جون کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔ دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ماضی میں اٹھائے گئے
بیشتر مطالبات پر پیش رفت بھی کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تنازع بنیادی طور پر مہاجرین جموں و کشمیر کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر اختلافات کے باعث پیدا ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مزید وقت مانگا تھا تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مہاجرین کی نشستوں کے مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے، تاہم کمیٹی نے 9 جون کی دی گئی تاریخ میں توسیع پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی سطح پر بھی رابطے کیے گئے ہیں اور حکومت اب بھی مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کی خواہاں ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا کہ اگر 9 جون کو احتجاج اور لانگ مارچ ہوتا ہے تو حکومت طاقت یا فورس کے استعمال سے گریز کرے گی۔
احتجاج اور لانگ مارچ والوں کو ٹھنڈا پانی پلائیں گے گیاور ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین کوشش یہی ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں اور ریاست کسی نئے بحران کا شکار نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی شرکاء کے ساتھ تحمل، برداشت اور احترام کا رویہ اختیار کیا جائے گا اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل سڑکوں کے بجائے مذاکرات اور جمہوری فورمز کے ذریعے نکالنا زیادہ بہتر راستہ ہے، تاہم حکومت احتجاج کرنے والوں کے مؤقف کو سننے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 9 جون کا مجوزہ لانگ مارچ اور اس پر حکومت کا نرم مؤقف آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین احتجاج سے قبل کسی قابل قبول حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔
